مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأيمان والنذور— قسموں اور نذروں کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ يَحْلِفُ يَمِينًا كَاذِبَةً يَقْتَطِعُ بِهَا مَالًا . باب: اس شخص کا بیان ، جو جھوٹی قسم اٹھاتا ہے تاکہ اس کے ذریعے مال ہتھیا لے
وَعَنِ الْأَشْعَثِ بْنِ قَيْسٍ أَنَّ مُعَاذًا كَانَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ رَجُلٍ خُصُومَةٌ فَقَضَى بِالْيَمِينِ عَلَى أَحَدِهِمَا فَقَالَ الْآخَرُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ تَتْرُكُهُ يَحْلِفُ فَيَذْهَبُ بِهَا ؟ فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " فَإِنَّهُ إِنْ حَلَفَ كَاذِبًا " فَقَالَ قَوْلًا شَدِيدًا . ¤ قُلْتُ : لَهُ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ غَيْرُ هَذَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ سَلَامٍ الْمَنْبِجِيُّ قِيلَ فِي تَرْجَمَتِهِ : لَهُ غَرَائِبُ . وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا اشعث بن قیس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ اور ایک شخص کے درمیان اختلاف ہو گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں میں سے ایک پر قسم کی ادائیگی کا فیصلہ دیا تو دوسرے نے کہا: یا رسول اللہ ! آپ اسے حلف اٹھانے کا موقع دے رہے ہیں یہ تو یہ چیز لے جائے گا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا اگر اس نے جھوٹا حلف اٹھایا ( راوی بیان کرتے ہیں : ) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بارے میں شدید کلمات ارشاد فرمائے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ان صحابی کے حوالے سے ” صحیح “ میں ایک حدیث مذکور ہے ، جو اس کے علاوہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایک راوی محمد بن سلام منجی ہے اس کے حالات میں یہ بات بیان کی گئی ہے کہ اس سے عجیب و غریب روایات منقول ہیں اس کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔