مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الأيمان والنذور— قسموں اور نذروں کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ يَحْلِفُ يَمِينًا كَاذِبَةً يَقْتَطِعُ بِهَا مَالًا . باب: اس شخص کا بیان ، جو جھوٹی قسم اٹھاتا ہے تاکہ اس کے ذریعے مال ہتھیا لے
وَعَنْ أَبِي سَلَمَةَ أَنَّ مَرْوَانَ قَالَ : اذْهَبُوا فَأَصْلِحُوا بَيْنَ هَذَيْنِ - لِسَعِيدِ بْنِ زَيْدٍ وَأَرْوَى بِنْتِ أُوَيْسٍ - فَأَتَيْنَا سَعِيدَ بْنَ زَيْدٍ ، فَقَالَ : أَتَرَوْنَ أَنِّي قَدِ انْتَقَصْتُ حَقَّهَا شَيْئًا ؟ أَشْهَدُ لَسَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ أَخَذَ شِبْرًا مِنَ الْأَرْضِ بِغَيْرِ حَقِّهِ طُوِّقَهُ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ . وَمَنْ تَوَلَّى قَوْمًا بِغَيْرِ إِذْنِهِمْ فَعَلَيْهِ لَعْنَةُ اللَّهِ . وَمَنِ اقْتَطَعَ مَالَ امْرِئٍ مُسْلِمٍ بِيَمِينٍ فَلَا بَارَكَ اللَّهُ لَهُ فِيهِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِي الصَّحِيحِ مِنْهُ : " مَنِ اقْتَطَعَ شِبْرًا مِنَ الْأَرْضِ طُوِّقَهُ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ ، رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤ وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ ، وَأَبُو يَعْلَى بِتَمَامِهِ . ¤ابوسلمہ بیان کرتے ہیں : مروان نے کہا: تم لوگ جاؤ اور ان دو آدمیوں کے درمیان صلح کروا دو ، ان کی مراد سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ اور عروی بنت اویس نامی خاتون تھیں ، راوی کہتے ہیں : ہم لوگ سیدنا سعید بن زید رضی اللہ عنہ کے پاس آئے تو انہوں نے فرمایا : کیا تم لوگ یہ سمجھتے ہو ؟ کہ میں نے اس عورت کے حق میں کوئی کمی کی ہو گی ؟ میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص بالشت بھر زمین ناحق طور پر لے گا ، اُسے سات زمینوں کا طوق پہنایا جائے گا اور جو شخص کسی قوم کی اجازت کے بغیر اُن کی بجائے کسی اور کی طرف نسبت ولاء قائم کرے گا ، اس پر اللہ تعالیٰ کی لعنت ہو گی اور جو شخص ( جھوٹی ) قسم کے ذریعے مسلمان شخص کا مال ہتھیائے گا ، تو اللہ تعالیٰ اس شخص کے لئے اس مال میں برکت نہیں رکھے گا “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ” صحیح “ میں اس کا یہ حصہ منقول ہے : ” جو شخص بالشت بھر زمین ہتھیائے گا ، اسے سات زمینوں کا طوق پہنایا جائے گا“ ۔ یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ، یہ روایت امام بزار نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے اور امام ابویعلی نے مکمل روایت کے طور پر نقل کی ہے ۔