حدیث نمبر: 6878
عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيُّ الظُّلْمِ أَظْلَمُ ؟ فَقَالَ : " ذِرَاعٌ مِنَ الْأَرْضِ يَنْتَقِصُهَا الْمَرْءُ الْمُسْلِمُ مِنْ حَقِّ أَخِيهِ إِلَّا طُوِّقَهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ إِلَى قَعْرِ الْأَرْضِ ، وَلَا يَعْلَمُ قَعْرَهَا إِلَّا اللَّهُ تَعَالَى الَّذِي خَلَقَهَا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَإِسْنَادُ أَحْمَدَ حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کون سا ظلم زیادہ بڑا ظلم ہے ؟ آپ نے فرمایا : زمین کا ایک ذراع ، جسے کوئی مسلمان شخص اپنے بھائی کے حق میں سے ہتھیا لیتا ہے ، تو قیامت کے دن زمین کی گہرائی تک ( وزنی ) طوق اس کے گلے میں ڈال دیا جائے گا اور اس کی گہرائی کا علم صرف اللہ تعالیٰ کو ہے ، جس نے اُسے پیدا کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، امام أحمد کی سند حسن ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6878
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10516) اخرجه احمد المسند (3773 و 3767)»