حدیث نمبر: 687
عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيْسَ الْخَبَرُ كَالْمُعَايَنَةِ ; إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - أَخْبَرَ مُوسَى - عَلَيْهِ السَّلَامُ - بِمَا صَنَعَ قَوْمُهُ فِي الْعِجْلِ ، فَلَمْ يُلْقِ الْأَلْوَاحَ ، فَلَمَّا عَايَنَ مَا صَنَعُوا أَلْقَى الْأَلْوَاحَ ، فَانْكَسَرَتْ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَصَحَّحَهُ ابْنُ حِبَّانَ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” خبر معائنہ کی طرح نہیں ہوتی ( یعنی سنی ہوئی اطلاع ، بذات خود مشاہدہ کرنے کی مانند نہیں ہوتی ، اس کی مثال یہ ہے : ) جب اللہ تعالیٰ نے سیدنا موسیٰ علیہ السلام کو یہ خبر دی کہ اُن کی قوم کے افراد نے بچھڑے ( کی پوجا شروع کر دی ہے ) تو انہوں نے ” الواح “ ( جن میں تورات تحریر تھی ) اُن کو ایک طرف نہیں رکھا ، لیکن جب اُنہوں نے اپنی قوم کے طرزعمل کا مشاہدہ کیا ، تو ” الواح“ کو ایک طرف رکھا اور وہ ٹوٹ گئیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ابن حبان نے اسے صحیح قرار دیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 687
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 1245 اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الاوسط 25 ، اخرجه الامام احمد فى مسند 721/1 اورده المؤلف فى زوائد المسند 224 اورده المؤلف فى كشف الاستار 200»