مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب العلم— علم کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي كُتَّابِ الْوَحْيِ . باب: کاتبین وحی کا بیان
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - اسْتَكْتَبَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ الْأَرْقَمِ ، فَكَانَ يَكْتُبُ إِلَى الْمُلُوكِ ، فَبَلَغَ مِنْ أَمَانَتِهِ عِنْدَهُ أَنَّهُ كَانَ يَكْتُبُ إِلَى بَعْضِ الْمُلُوكِ ، فَيَكْتُبُ ثُمَّ يَأْمُرُ بِهِ أَنْ يُطَيِّنَهُ ، ثُمَّ يَخْتِمُ ، لَا يَقْرَأُ لِأَمَانَتِهِ عِنْدَهُ ، وَاسْتَكْتَبَ أَيْضًا زَيْدَ بْنَ ثَابِتٍ ، فَكَانَ يَكْتُبُ [ الْوَحْيَ ] ، وَيَكْتُبُ إِلَى الْمُلُوكِ أَيْضًا ، فَكَانَ إِذَا غَابَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْأَرْقَمِ وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ وَاحْتَاجَ أَنْ يَكْتُبَ [ إِلَى بَعْضِ أُمَرَاءِ الْأَجْنَادِ وَالْمُلُوكِ ، وَيَكْتُبَ ] الِإِنْسَانٍ كِتَابًا يُقَطِّعُهُ - أَمَرَ مَنْ حَضَرَ أَنْ يَكْتُبَ ، وَقَدْ كَتَبَ لَهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، وَعُثْمَانُ بْنُ عَفَّانَ ، وَعَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ ، وَزَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ ، وَالْمُغِيَرَةُ بْنُ شُعْبَةَ ، وَمُعَاوِيَةُ بْنُ أَبِي سُفْيَانَ ، وَخَالِدُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ ، وَغَيْرُهُمْ مِمَّنْ قَدْ سَمَّى مِنَ الْعَرَبِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ سَلَمَةُ بْنُ الْفَضْلِ الْأَبْرَشُ ، ضَعَّفَهُ الْبُخَارِيُّ وَابْنُ الْمَدِينِيِّ وَأَبُو زُرْعَةَ ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَأَبُو حَاتِمٍ . ¤سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا عبداللہ بن ارقم رضی اللہ عنہ سے تحریر لکھوایا کرتے تھے ، بادشاہوں کی طرف بھیجے جانے والے خطوط وہ لکھ کر دیتے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں وہ اتنے قابل اعتماد شمار ہوتے تھے کہ بعض بادشاہوں کو خط اُنہوں نے ازخود لکھ دیے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ حکم دیا کہ اُس کی سیاہی کو پختہ کر کے اُس پر مہر لگا دی جائے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُس کو پڑھا نہیں ، کیونکہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک قابل اعتماد تھے ، اسی طرح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے بھی کتابت کرواتے تھے ، وہ وحی بھی نوٹ کرتے تھے اور بادشاہوں کی طرف مکتوب بھی تحریر کرتے تھے ، جب کبھی سیدنا عبداللہ بن ارقم رضی اللہ عنہ اور سیدنا زید بن ثابت رضی اللہ عنہ غیر موجود ہوتے ، اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ( لشکروں کے کسی امیر یا کسی بادشاہ کی طرف ) کوئی تحریر بھجوانے کی ضرورت پیش آتی ، تو آپ موجود افراد میں سے کسی کو یہ حکم دیتے تھے کہ وہ تحریر کر دے ۔ سیدنا عمر بن خطاب ، سیدنا عثمان بن عفان ، سیدنا علی بن ابوطالب ، سیدنا زید بن ثابت ، سیدنا مغیرہ بن شعبہ ، سیدنا معاویہ بن ابوسفیان ، سیدنا خالد بن سعید بن العاص اور دیگر حضرات رضوان اللہ علیہم اجمعین نے آپ کے لیے کتابت کے فرائض سرانجام دیے ہیں ( راوی بیان کرتے ہیں : ) اُنہوں نے اُن دیگر افراد کے نام بیان کیے تھے ، جن کا تعلق عربوں سے ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی سلمہ بن فضل ابرش ہے ، جسے امام بخاری رحمہ اللہ ، ابن مدینی اور ابوزرعہ نے ضعیف قرار دیا ہے ، جبکہ یحیی بن معین اور ابوحاتم نے اُسے ثقہ قرار دیا ہے ۔