مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ أَعْطَى شَيْئًا ، ثُمَّ وَرِثَهُ . باب: اس شخص کا بیان ، جو کوئی چیز دیتا ہے اور پھر وہ اس چیز کا وارث بن جاتا ہے
حدیث نمبر: 6832
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ رَجُلًا قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي أَعْطَيْتُ أُمِّي حَدِيقَةً فِي حَيَاتِهَا ، وَإِنَّهَا تُوُفِّيَتْ ، وَلَمْ تَدَعْ وَارِثًا غَيْرِي ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - - أَحْسَبُهُ قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ تَبَارَكَ وَتَعَالَى رَدَّ عَلَيْكَ حَدِيقَتَكَ ، وَقَبِلَ صَدَقَتَكَ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ . ¤ وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثٌ فِي الْعُمْرَى ، وَتَأْتِي أَحَادِيثُ فِي الْفَرَائِضِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى . ¤محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں نے اپنی والدہ کو ان کی زندگی میں ایک باغ دیا ، ان کا انتقال ہو گیا ، انہوں نے میرے علاوہ کوئی اور وارث نہیں چھوڑا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ نے تمہارا باغ ، تمہیں واپس کر دیا ہے اور تمہارے صدقے کو قبول کر لیا ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ۔ اس سے پہلے عمری کے بارے میں حدیث گزر چکی ہے اور کچھ احادیث فرائض سے متعلق باب میں آگے آئیں گی ، اگر اللہ نے چاہا ۔