مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ مَرَّ عَلَى بُسْتَانٍ أَوْ مَاشِيَةٍ . باب: اس شخص کا بیان ، جو کسی باغ یا جانور کے پاس سے گزرتا ہے
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ أَنَّ أَصْحَابَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَصَابَتْهُمْ مَخْمَصَةٌ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَقْبَلَ رَجُلَانِ حَتَّى أَشْرَفَا عَلَى حَوَائِطَ ، فَإِذَا هُمْ بِتَمْرٍ فِي حَائِطٍ ، فَنَزَلَ أَحَدُهُمَا وَفَرِقَ الْآخَرُ ، فَأَكَلَ حَتَّى إِذَا شَبِعَ جَعَلَ يَحْثِي فِي ثِيَابِهِ ، وَجَاءَ صَاحِبُ الْحَائِطِ فَانْتَزَعَ ثَوْبَهُ وَأَوْثَقَهُ إِلَى نَخْلَةٍ ، وَأَخَذَ شَظِيَّةً فَأَوْجَعَهُ ضَرْبًا ، ثُمَّ انْطَلَقَ بِهِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَالَ : وَجَدْتُ هَذَا فِي حَائِطِي أَكَلَ حَتَّى إِذَا شَبِعَ جَعَلَ يَحْثِي فِي ثِيَابِهِ . فَقَالَ الْآخَرُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَقْبَلْتُ أَنَا وَصَاحِبِي ، وَنَحْنُ جَائِعَانِ ، فَأَمَّا أَنَا فَنَزَلْتُ ، وَأَمَّا صَاحِبِي فَفَرِقَ، فَأَكَلْتُ وَأَخَذْتُ لِصَاحِبِي ، فَجَاءَ هَذَا فَفَعَلَ بِي كَذَا وَكَذَا . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " انْطَلِقْ فَأَعْطِهِ ثَوْبَهُ ، وَكِلْ لَهُ وَسْقًا مَكَانَ مَا ضَرَبْتَهُ " . ¤ قُلْتُ : لَهُ عِنْدَ ابْنِ مَاجَهْ حَدِيثٌ غَيْرُ هَذَا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَرَادَةَ وَثَّقَهُ أَبُو دَاوُدَ ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ . ¤سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں بھوک لاحق ہو گئی دو آدمی آئے ، انہوں نے ایک باغ کی دیوار سے جھانک کر دیکھا ، وہاں باغ میں کھجوروں کے درخت موجود تھے ، ان میں سے ایک شخص دیوار پھیلانگ کر اندر آ گیا اور دوسرا ڈر گیا ، اندر آنے والے شخص نے کھجوریں کھانا شروع کیں ، جب وہ سیر ہو گیا ، تو اس نے اپنے کپڑے میں اکٹھا کرنا شروع کر دیں ، باغ کا مالک آیا ، اس نے اس کا کپڑا اس سے چھین لیا اور اسے کھجور کے درخت کے ساتھ باندھ دیا اس نے ایک چھڑی لی اور اس نے اس کے ذریعے اس شخص کی پٹائی کی ، پھر وہ اسے لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا ، اس نے بتایا کہ میں نے اس شخص کو اپنے باغ میں پایا کہ یہ کھا رہا تھا ، جب یہ سیر ہو گیا ، تو اس نے اپنے کپڑے میں کھجوریں انھی کرنی شروع کر دیں ، اس شخص نے کہا: یا رسول اللہ ! میں اور میرا ساتھی آئے تھے ، اور ہم دونوں بھوکے تھے ، میں تو باغ کے اندر اتر گیا تھا اور میرا ساتھی ڈر گیا تھا ، میں نے کھجوریں کھا لیں اور اپنے ساتھی کے لئے لی تھیں ، لیکن پھر یہ شخص آیا اور اس نے میرے ساتھ یہ ، یہ سلوک کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم جاؤ ! اور اس کا کپڑا اسے دو اور اسے ایک وسق ماپ کر دو ، اس چیز کی جگہ جو تم نے اس کی پٹائی کی ہے ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ان صحابی کے حوالے سے امام ابن ماجہ نے بھی ایک حدیث نقل کی ہے ، جو اس کے علاوہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن عرادہ ہے ، جسے ابوداؤد نے ثقہ قرار دیا ہے اور ایک جماعت نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔