مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ مَرَّ عَلَى بُسْتَانٍ أَوْ مَاشِيَةٍ . باب: اس شخص کا بیان ، جو کسی باغ یا جانور کے پاس سے گزرتا ہے
وَعَنْ مِخْوَلٍ النَّهْدَيِّ ، ثُمَّ السُّلَمِيِّ ، وَكَانَ قَدْ أَدْرَكَ الْجَاهِلِيَّةَ وَالْإِسْلَامَ قَالَ : نَصَبْتُ حَبَائِلَ لِي بِالْأَبْوَاءِ فَوَقَعَ فِي حَبْلٍ مِنْهَا ظَبْيٌ، فَانْقَلَبَ بِالْحَبْلِ ، فَخَرَجْتُ فِي أَثَرِهِ أَقَفُوهُ ، فَوَجَدْتُ رَجُلًا قَدْ أَخَذَهُ ، فَتَنَازَعْنَا فِيهِ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَوَجَدْنَاهُ نَازِلًا بِالْأَبْوَاءِ تَحْتَ شَجَرَةٍ قَدِ اسْتَظَلَّ بِنِطْعٍ ، فَقَضَى بِهِ بَيْنَنَا شَطْرَيْنِ قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذِهِ حَبَائِلِي فِي رِجْلِهِ قَالَ : " هُوَ ذَاكَ " قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّا كُنَّا نَأْتِي الْمَاءَ فَتَرِدُ عَلَيْنَا الْإِبِلُ وَهِيَ عِطَاشٌ ، فَنَسْقِيهَا مِنَ الْمَاءِ هَلْ لَنَا فِي ذَلِكَ أَجْرٌ ؟ قَالَ : " نَعَمْ ؛ لَكَ فِي كُلِّ ذَاتِ كَبِدٍ حَرَّى أَجْرٌ " . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، الْإِبِلُ الضَّوَالُ نَلْقَاهَا وَهِيَ مُصَرَّاةٌ وَنَحْنُ جِيَاعٌ ؟ قَالَ : " قُلْ : يَا صَاحِبَ الْإِبِلِ . فَإِنْ جَاءَ وَإِلَّا فَحُلَّ صِرَارَهَا ، احْلُبْ وَاشْرَبْ ، وَأَعِدْ صِرَارَهَا ، وَأَبْقِ لِلَبَنِ دَوَاعِيَهُ " . ثُمَّ أَنْشَأَ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " يَأْتِي عَلَى النَّاسِ زَمَانٌ يَكُونُ خَيْرَ الْمَالِ فِيهِ غَنَمٌ بَيْنَ الْمَسْجِدَيْنِ - يَعْنِي مَسْجِدَ الْمَدِينَةِ وَمَسْجِدَ مَكَّةَ - تَأْكُلُ الشَّجَرَ ، وَتَرِدُ الْمِيَاهَ ، يَأْكُلُ صَاحِبُهَا مِنْ سِلَائِهَا ، وَيَلْبَسُ مِنْ أَصْوَافِهَا - أَوْ قَالَ : مِنْ أَشْعَارِهَا - وَالْفِتَنُ تَرْتَهِشُ بَيْنَ جَرَاثِيمِ الْعَرَبِ، وَالدِّمَاءُ تُسْفَكُ " . يَقُولُهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثَلَاثًا . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَوْصِنِي . قَالَ : " اتَّقِ اللَّهَ ، وَأَقِمِ الصَّلَاةَ، وَآتِ الزَّكَاةَ ، وَحُجَّ وَاعْتَمِرْ وَبِرَّ وَالِدَيْكَ ، وَصِلْ رَحِمَكَ وَأَقْرِ الضَّيْفَ ، وَأْمُرْ بِالْمَعْرُوفِ ، وَانْهَ عَنِ الْمُنْكَرِ ، وَزُلْ مَعَ الْحَقِّ حَيْثُ مَا زَالَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ مَسْمُولٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤مخول نہدی ثم سلمی ، جنہیں زمانہ جاہلیت اور زمانہ اسلام ، دونوں نصیب ہوئے ہیں ، وہ بیان کرتے ہیں : میں نے ” ابواء “ کے مقام پر جال لگایا ، ایک رسی میں ایک ہرن کا بچہ پھنس گیا ، وہ اس رسی کو لے کے چل پڑا ، میں اس کے پیچھے پیچھے چل پڑا ، تو میں نے ایک شخص کو پایا کہ اس نے اسے پکڑ لیا تھا ، اس ہرن کے بارے میں ہم دونوں کے درمیان اختلاف ہوا ، ہم نے اپنا مقدمہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا ، ہم نے آپ کو پایا کہ ” ابواء “ کے مقام میں ایک درخت کے نیچے پڑاؤ کیا ہوا تھا اور چمڑے کے ذریعے آپ پر سایہ کیا گیا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے میں یہ فیصلہ دیا کہ وہ ہم دونوں کے درمیان دو حصوں میں تقسیم ہو جائے گا ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ میری رسی ہے ، جو اس جانور کے پاؤں میں موجود ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ اسی طرح ہے میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہم کسی پانی پر آتے ہیں ، وہاں ہمارے پاس اونٹ آ جاتے ہیں ، جو پیاسے ہوتے ہیں ، تو کیا ہم انہیں پانی پلا دیں ، اور کیا ہمیں اس کا اجر ملے گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! تمہیں ہر جاندار کے ساتھ بھلائی کرنے کا اجر ملے گا ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اگر گم شدہ اونٹ ہمیں ملتے ہیں اور ان کے دودھ نہیں نکالا گیا ہوتا اور ہم بھوکے ہوتے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم یہ کہو : اے اونٹوں کے مالک ! اگر کوئی شخص آ جائے ، تو ٹھیک ہے ، ورنہ تم اس کے تھن کے اوپر سے کپڑا ہٹا دو ، دودھ دوہ کر اسے پی لو ، اور پھر وہاں کپڑا لگا دو ، اور دودھ کے لئے اس کے دوائی کو باقی رہنے دو ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمانا شروع کیا : ” عنقریب لوگوں پر ایسا زمانہ آئے گا کہ اس زمانے میں سب سے بہتر مال وہ بکریاں ہوں گی ، جو دو مسجدوں کے درمیان ہوں گی ، راوی کہتے ہیں : یعنی مدینہ اور مسجد مکہ کے درمیان ہوں گی ، وہ درخت کے پتے کھا لیں گی ، پانی پر آ جائیں گی ، ان کا مالک ان کے گوشت کو کھائے گا ، اور ان کی اون سے ( بنا ہوا لباس ) پہن لے گا ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) ان کے بالوں سے ( بنا ہوا لباس پہن لے گا ) اور عربوں کے درمیان فتنے گھوم رہے ہوں گے ، خون بہایا جا رہا ہو گا ، یہ بات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے کوئی نصیحت کیجئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم اللہ تعالیٰ سے ڈرو ! تم نماز قائم کرو ، تم زکوۃ ادا کرو ، تم حج اور عمرہ کرو ، اپنے والدین کے ساتھ نیک سلوک کرو ، صلہ رحمی کرو ، مہمان نوازی کرو ، نیکی کا حکم دو ، اور برائی سے منع کرو اور حق کے ساتھ رہو ، جہاں بھی وہ ہو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن سلیمان بن مسمول ہے اور وہ ضعیف ہے ۔