مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ مَرَّ عَلَى بُسْتَانٍ أَوْ مَاشِيَةٍ . باب: اس شخص کا بیان ، جو کسی باغ یا جانور کے پاس سے گزرتا ہے
وَعَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدَبٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَأْمُرُ بِالضِّيَافَةِ، وَيَنْهَى أَنْ تُحْتَلَبَ مَاشِيَةُ الرَّجُلِ إِلَّا بِإِذْنِهِ ، وَيَقُولُ : " إِنَّمَا أَلْبَانُهَا كَمَا فِي حِقَابِكُمْ " . أَوْ كَلِمَةً نَحْوَهَا . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَقَالَ : " كَمَا فِي حُقُبِكُمْ لَيْسَ أَحَدُهُمَا بِأَحَلَّ مِنَ الْآخَرِ " . ¤ وَإِسْنَادُ الطَّبَرَانِيِّ فِيهِ مَسْتُورٌ ، وَإِسْنَادُ الطَّبَرَانِيِّ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ضیافت ( مہمان نوازی ) کا حکم دیتے تھے ، لیکن آپ اس بات سے منع کرتے تھے کہ آدمی کی اجازت کے بغیر اس کے جانور کا دودھ دوہ لیا جائے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم ارشاد فرماتے تھے : ” ان کے دودھ کی مثال اسی طرح ہے ، جیسے تمہاری تھیلی میں ہو “ ۔ یا اس کی مانند کوئی کلمہ آپ نے ارشاد فرمایا ۔
یہ روایت امام بزار نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” جس طرح تمہاری تھیلی میں ہو ، ان میں سے کوئی ایک دوسرے سے زیادہ حلال نہیں ہے “ ۔ امام طبرانی کی سند میں مستور راوی ہے اور امام طبرانی کی سند ضعیف ہے ۔