حدیث نمبر: 6801
وَعَنْ عُبَادَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَضَى فِي الرَّحْبَةِ تَكُونُ يُرِيدُ أَهْلُهَا الْبُنْيَانَ فِيهَا، فَقَضَى : " أَنْ يُتْرَكَ بَيْنَهُمَا لِلطَّرِيقِ سَبْعَةُ أَذْرُعٍ " . ¤ وَفِي رِوَايَةٍ : قَضَى فِي الرَّحْبَةِ تَكُونُ بَيْنَ الْقَوْمِ : " أَنَّ الطَّرِيقَ سَبْعُ أَذْرُعٍ " . ¤ رَوَاهُ كُلَّهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَأَحْمَدُ بِمَعْنَى الْأَوَّلِ فِي حَدِيثٍ طَوِيلٍ يَأْتِي إِنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى ، وَإِسْحَاقُ لَمْ يُدْرِكْ عُبَادَةَ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحن کے بارے میں ( یا گھر سے باہر موجود کھلی جگہ کے بارے میں ) یہ فیصلہ دیا ہے کہ اگر وہاں کے رہنے والے عمارت تعمیر کرنا چاہتے ہیں ، تو اس کے بارے میں یہ فیصلہ دیا ہے کہ وہ درمیان میں راستے کے لئے سات ذراع جگہ چھوڑ دیں گے ۔ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” وہ حسن ، جو لوگوں کے درمیان مشترک ہو ، اس کے بارے میں آپ نے یہ فیصلہ دیا ہے کہ راستہ سات ذراع کا ہو گا “ ۔ یہ تمام روایات امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہیں ، امام أحمد نے پہلی روایت کا مفہوم ایک طویل حدیث میں ذکر کیا ہے وہ روایت آگے آئے گی ، اگر اللہ نے چاہا ، اسحاق نامی راوی نے سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6801
درجۂ حدیث محدثین: إسناده منقطع