مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي هَدَايَا الْكُفَّارِ . باب: کفار کے تحائف کا بیان
وَعَنْ أَنَسٍ قَالَ : أَهْدَى الْأُكَيْدِرُ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - جَرَّةً مِنْ مَنٍّ ، فَلَمَّا انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنَ الصَّلَاةِ مَرَّ عَلَى الْقَوْمِ ، فَجَعَلَ يُعْطِي كُلَّ رَجُلٍ مِنْهُمْ قِطْعَةً ، وَأَعْطَى جَابِرًا قِطْعَةً ، ثُمَّ إِنَّهُ رَجَعَ إِلَيْهِ فَأَعْطَاهُ قِطْعَةً أُخْرَى فَقَالَ : إِنَّكَ قَدْ أَعْطَيْتَنِي مَرَّةً ؟ فَقَالَ : " هَذِهِ لَبِنَاتِ عَبْدِ اللَّهِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : اکیدر نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ” من“ کا گھڑا بھیجا تھا ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز پڑھ کر فارغ ہوئے اور آپ کا گزر لوگوں کے پاس سے ہوا تو آپ نے ان میں سے ہر ایک شخص کو کچھ نہ کچھ دیا ، آپ نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کو ایک حصہ دیا ، پھر جب آپ واپس ان کے پاس سے گزرے ، تو آپ نے انہیں ایک اور حصہ دیا ، انہوں نے عرض کی : آپ مجھے پہلے ایک مرتبہ عطا کر چکے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ ( تمہارے والد ) عبداللہ کی صاحبزادیوں کے لئے ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی علی بن زید ہے اور وہ ضعیف ہے ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔