مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي هَدَايَا الْكُفَّارِ . باب: کفار کے تحائف کا بیان
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ قَالَ : قَدِمَتْ قُتَيْلَةُ ابْنَةُ عَبْدِ الْعُزَّى بْنِ أَسْعَدَ بْنِ مَالِكِ بْنِ حِسْلٍ عَلَى بِنْتِهَا أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ بِهَدَايَا ضَبَابٍ وَتُرْمُسٍ وَسَمْنٍ ، فَأَبَتْ أَسْمَاءُ أَنْ تَقْبَلَ هَدِيَّتَهَا وَتُدْخِلَهَا بَيْتَهَا ، فَسَأَلَتْ عَائِشَةُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : ( لَا يَنْهَاكُمُ اللَّهُ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوكُمْ فِي الدِّينِ ) إِلَى آخِرِ الْآيَةِ . فَأَمَرَهَا أَنْ تَقْبَلَ هَدِيَّتَهَا وَتُدْخِلَهَا بَيْتَهَا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَجَوَّدَهُ، فَقَالَ : قَدِمَتْ قُتَيْلَةُ بِنْتُ عَبْدِ الْعُزَّى . وَفِيهِ مُصْعَبُ بْنُ ثَابِتٍ ؛ ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَغَيْرُهُ ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ . ¤سیدنا عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : قتیلہ بنت عبدالعزیٰ بن اسعد بن مالک بن حسل ، اپنی صاحبزادی سیدہ اسماء بنت ابوبکر کے پاس تحائف لے کے آئیں ، جن میں گوہ ، ترمس ( اناج کی ایک قسم جو کڑوا ہوتا ہے ) اور گھی شامل تھا ، سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا نے ان کا تحفہ قبول کرنے سے ، اور انہیں اپنے گھر میں داخل کرنے سے انکار کر دیا ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا ، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ” اللہ تعالی تمہیں ان لوگوں سے نہیں روکتا ہے ، جو تمہارے ساتھ دین کے بارے میں جنگ نہیں کرتے ہیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ یہ آیت کے آخر تک ہے ۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ ہدایت کی کہ وہ اس خاتون کا ہدیہ قبول کر لیں اور اسے اپنے گھر میں آنے دیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، انہوں نے اسے عمدہ قرار دیا ہے ۔ انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : قتیلہ بنت عبدالعزیٰ آ گئیں ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی مصعب بن ثابت ہے ، جسے امام أحمد اور دیگر حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے اور ابن حبان نے اسے ثقہ کہا: ہے ۔