حدیث نمبر: 6749
وَعَنْ عَامِرِ بْنِ مَالِكٍ الَّذِي يُقَالُ لَهُ : مُلَاعِبُ الْأَسِنَّةِ . قَالَ : قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِهَدِيَّةٍ فَقَالَ : " إِنَّا لَا نَقْبَلُ هَدِيَّةً لِمُشْرِكٍ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا شَيْخَ الْبَزَّارِ إِبْرَاهِيمَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْجُنَيْدِ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . وَرَوَاهُ مِنْ طَرِيقٍ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبٍ : أَنَّ عَامِرَ بْنَ مَالِكٍ . وَالطَّرِيقُ الْأُولَى عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبٍ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ مَالِكٍ . قَالَ : وَصَلَهُ ابْنُ الْمُبَارَكِ وَأَرْسَلَهُ عَبْدُ الرَّزَّاقِ . ¤
محمد محی الدین

عامر بن مالک ، جنہیں ” ملاعب الاسنہ “ کہا: جاتا ہے ، وہ بیان کرتے ہیں : میں تحفہ لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، تو آپ نے ارشاد فرمایا : ہم کسی مشرک کا تحفہ قبول نہیں کرتے ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف امام بزار کے استاد ابراہیم بن عبداللہ بن جنید کا معاملہ مختلف ہے وہ ثقہ ہے ، انہوں نے
یہ روایت عبدالرحمن بن کعب کے حوالے سے نقل کی ہے کہ عامر بن مالک کے ساتھ یہ واقعہ پیش آیا ، پہلی روایت کی سند میں یہ بات مذکور ہے کہ یہ عبدالرحمن بن کعب کے حوالے سے عامر بن مالک سے منقول ہے ، وہ کہتے ہیں : عبداللہ بن مبارک نے اسے موصول روایت کے طور پر اور امام عبدالرزاق نے اسے ” مرسل “ روایت کے طور پر نقل کیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6749
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (1933 موصولا و 1934 مرسلا)»