مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب العلم— علم کے بارے میں روایات
بَابُ كِتَابَةِ الْعِلْمِ . باب: علم کو تحریر کرنا
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ - يَعْنِي الْخُدْرِيَّ - قَالَ : كُنَّا قُعُودًا نَكْتُبُ مَا نَسْمَعُ مِنَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَخَرَجَ عَلَيْنَا فَقَالَ : " مَا هَذَا تَكْتُبُونَ ؟ " فَقُلْنَا : مَا نَسْمَعُ مِنْكَ ، فَقَالَ : " أَكِتَابٌ مَعَ كِتَابِ اللَّهِ ؟ أَمْحِضُوا كِتَابَ اللَّهِ وَأَخْلَصُوهُ " . قَالَ : فَجَمَعْنَا مَا كَتَبْنَاهُ فِي صَعِيدٍ وَاحِدٍ ، ثُمَّ أَحْرَقْنَاهُ بِالنَّارِ ، فَقُلْنَا : أَيْ رَسُولَ اللَّهِ ، نَتَحَدَّثُ عَنْكَ ؟ قَالَ : " نَعَمْ ، تَحَدَّثُوا عَنِّي وَلَا حَرَجَ ، وَمَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ " . قَالَ : قُلْنَا : أَيْ رَسُولَ اللَّهِ ، أَنَتَحَدَّثُ عَنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ ؟ ؟ قَالَ : " نَعَمْ ، تَحَدَّثُوا عَنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ وَلَا حَرَجَ ، فَإِنَّكُمْ لَا تُحَدِّثُونَ عَنْهُمْ بِشَيْءٍ إِلَّا وَقَدْ كَانَ فِيهِمْ أَعْجَبَ مِنْهُ " . ¤ قُلْتُ : لَهُ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ بِغَيْرِ هَذَا السِّيَاقِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ہم لوگ بیٹھے ہوئے وہ باتیں نوٹ کر رہے تھے ، جو ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی تھیں ، اسی دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : یہ تم لوگ کیا نوٹ کر رہے ہو ؟ ہم نے عرض کی : وہ باتیں جو ہم نے آپ سے سنی ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا اللہ کی کتاب کے ہمراہ کچھ اور بھی نوٹ کیا جائے گا ؟ تم لوگ صرف اللہ کی کتاب کو رہنے دو ! راوی بیان کرتے ہیں : ہم نے جو کچھ بھی نوٹ کیا ہوا تھا ، وہ سب ہم نے ایک میدان میں اکٹھا کیا اور پھر اس کو آگ کے ذریعے جلا دیا ، ہم نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! کیا ہم آپ کے حوالے سے احادیث روایت کر دیا کریں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! تم میرے حوالے سے حدیث روایت کر دیا کرو ! اس میں کوئی حرج نہیں ہے ، اور جو شخص جان بوجھ کر میری طرف کوئی جھوٹی بات منسوب کرے ، وہ جہنم میں اپنے مخصوص ٹھکانے تک پہنچنے کے لیے تیار رہے ، راوی بیان کرتے ہیں : ہم نے عرض کی : اے اللہ کے رسول ! کیا ہم بنی اسرائیل کے حوالے سے کوئی روایت نقل کر دیا کریں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! تم لوگ بنی اسرائیل کے حوالے سے کوئی روایت نقل کر دیا کرو ! اس میں کوئی حرج نہیں ہے ، تم ان کے حوالے سے جو بھی چیز نقل کرو گے ، ان کے درمیان اس سے زیادہ عجیب چیز موجود ہو گی ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح“ میں سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ حدیث منقول ہے ، لیکن وہ اس سیاق کے بغیر ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن زید بن اسلم ہے اور وہ ضعیف ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔