حدیث نمبر: 6713
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ سَأَلَكُمْ بِاللَّهِ فَأَعْطُوهُ ، وَمَنِ اسْتَعَاذَكُمْ بِاللَّهِ فَأَعِيذُوهُ ، وَمَنْ دَعَاكُمْ فَأَجِيبُوهُ ، وَمَنْ أَهْدَى إِلَيْكُمْ كُرَاعًا فَاقْبَلُوهُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَالْأَوْسَطِ ، وَقَالَ : " مَنْ أَهْدَى إِلَيْكُمْ ذِرَاعًا ، أَوْ كُرَاعًا فَاقْبَلُوهُ " . ¤ وَقَدْ رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ خَلَا مِنْ قَوْلِهِ : " وَمَنْ دَعَاكُمْ . . " . إِلَى آخِرِهِ . ¤ وَرِجَالُ الْكَبِيرِ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا لَيْثَ بْنَ أَبِي سُلَيْمٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص تم سے اللہ کے نام پر مانگے اُسے دو ، اور جو شخص تم سے اللہ کے نام پر پناہ مانگے ، اسے پناہ دو ، جو شخص تمہاری دعوت کرے ، تم اس کی دعوت میں جاؤ ، اور جو شخص تمہیں پائے تمہیں تحفے کے طور پر دے ، تو تم اسے قبول کر لو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، آپ نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص تحفے کے طور پر تمہیں دستی ، یا پایا دے ، تو تم اسے قبول کر لو “ ۔
یہ روایت ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، تا ہم اس میں یہ الفاظ نہیں ہیں : ” جو شخص تمہیں بلائے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ اس سے لے کر آخر تک کے الفاظ نہیں ہیں ۔ معجم کبیر کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف لیث بن ابوسلیم نامی راوی کا معاملہ مختلف ہے وہ ثقہ ہے ، لیکن وہ تدلیس کرنے والا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6713
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف