حدیث نمبر: 6700
وَعَنِ ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : كَانَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ شَابًّا جَمِيلًا سَمْحًا مِنْ خَيْرِ شَبَابِ قَوْمِهِ ، وَلَا يَسْأَلُ شَيْئًا إِلَّا أَعْطَاهُ حَتَّى ادَّانَ دَيْنًا أَغْلَقَ مَالَهُ . قَالَ : فَكَلَّمَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنْ يُكَلِّمَ غُرَمَاءَهُ ، فَفَعَلَ ، فَلَمْ يَضَعُوا لَهُ شَيْئًا ، فَلَوْ تُرِكَ لِأَحَدٍ بِكَلَامِ أَحَدٍ لَتُرِكَ لِمُعَاذٍ بِكَلَامِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . فَدَعَاهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمْ يَبْرَحْ حَتَّى بَاعَ مَالَهُ ، وَقَسَّمَهُ بَيْنَ غُرَمَائِهِ . فَقَامَ مُعَاذٌ لَا مَالَ لَهُ . فَلَمَّا حَجَّ بَعَثَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَى الْيَمَنِ لِيَجْبُرَ . قَالَ : وَكَانَ أَوَّلَ مَنْ بَحَّرَ فِي هَذَا الْمَالِ مُعَاذٌ ، فَقَدِمَ عَلَى أَبِي بَكْرٍ مِنَ الْيَمَنِ ، وَقَدْ تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ مُرْسَلًا ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے بیان کرتے ہیں : سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نوجوان خوبصورت مہربان شخص تھے ، اپنی قوم کے بہترین فرد تھے ، جو بھی شخص ان سے کوئی چیز مانگتا تھا ، وہ اسے دے دیا کرتے تھے ، یہاں تک کہ انہوں نے اتنا قرض لے لیا کہ جس نے ان کے مال کو بند کر دیا ، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ یہ بات کی کہ آپ ان کے قرض خواہوں سے بات چیت کریں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسا ہی کیا ، لیکن ان کے قرض خواہوں نے کچھ بھی معاف نہیں کیا ، اگر کسی شخص کو کسی سے بات کرنے کی وجہ سے چھوڑ دیا جاتا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بات کرنے کی وجہ سے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو چھوڑ دیا جاتا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بلوایا اور ان کا مال فروخت کروا کے ان کے قرض خواہوں کو ادائیگیاں کر دیں اور سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ ایسی حالت میں رہ گئے کہ ان کے پاس کوئی مال نہیں تھا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کر لیا ، تو آپ نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن کی طرف بھیجا ، تاکہ وہ اپنی حاجت پوری کریں ۔ راوی بیان کرتے ہیں : تو وہ پہلے فرد ، جنہوں نے یہ مال حاصل کیا ، وہ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ ہیں ، وہ یمن سے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو چکا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں ” مرسل “ روایت کے طور پر نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6700
درجۂ حدیث محدثین: إسناده مرسل
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (30/20) ورواه البيهقي فى السنن الكبرى (48/6)»