مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الْمُفْلِسِ . باب: مفلس کا بیان
وَعَنْ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ - وَكَانَ أَحَدَ الثَّلَاثَةِ الَّذِينَ تَابَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ - قَالَ : كَانَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ ادَّانَ بِدَيْنٍ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى أَحَاطَ ذَلِكَ بِمَالِهِ ، وَكَانَ مُعَاذٌ مِنْ صُلَحَاءِ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ مُعَاذٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا جَعَلْتُ فِي نَفَسِي حِينَ أَسْلَمْتُ أَنْ أَبْخَلَ بِمَالٍ مَلَكْتُهُ ، وَإِنِّي أَنْفَقْتُ مَالِي فِي أَمْرِ الْإِسْلَامِ ، فَأَبْقَى ذَلِكَ عَلَيَّ دَيْنًا عَظِيمًا ، فَادْعُو غُرَمَائِي فَاسْتَرْفِقْهُمْ ، فَإِنْ أَرْفَقُونِي فَسَبِيلُ ذَلِكَ ، وَإِنْ أَبَوْا فَاجْعَلْنِي لَهُمْ مِنْ مَالِي . فَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - غُرَمَاءَهُ ، فَعَرَضَ عَلَيْهِمْ أَنْ يَرْفُقُوا بِهِ فَقَالُوا : نَحْنُ نُحِبُّ أَمْوَالَنَا . فَدَفَعَ إِلَيْهِمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَالَ مُعَاذٍ كُلَّهُ . ثُمَّ إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بَعَثَ مُعَاذًا عَلَى بَعْضِ الْيَمَنِ لِيُجْبِرَهُ ، فَأَصَابَ مُعَاذٌ مِنَ الْيَمَنِ مِنْ مَرَافِقِ الْإِمَارَةِ مَالًا فَتُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَمُعَاذٌ بِالْيَمَنِ . فَارْتَدَّ بَعْضُ أَهْلِ الْيَمَنِ ، فَقَاتَلَهُمْ مُعَاذٌ وَأُمَرَاءُ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَمَّرَهُمْ عَلَى الْيَمَنِ حَتَّى دَخَلُوا فِي الْإِسْلَامِ ، ثُمَّ قَدِمَ فِي خِلَافَةِ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ بِمَالٍ عَظِيمٍ ، فَأَتَاهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَقَالَ : إِنَّكَ قَدْ قَدِمْتَ بِمَالٍ عَظِيمٍ ، فَإِنِّي أَرَى أَنْ تَأْتِيَ أَبَا بَكْرٍ فَتَسْتَحِلَّهُ مِنْهُ ، فَإِنْ أَحَلَّهُ لَكَ طَابَ لَكَ وَإِلَّا دَفَعْتَهُ إِلَيْهِ ، فَقَالَ مُعَاذٌ : لَقَدْ عَلِمْتَ يَا عُمَرُ مَا بَعَثَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِلَّا لِيُجْبِرَنِي فِي حِينِ دَفْعِ مَالِي إِلَى غُرَمَائِي وَمَا كُنْتُ لِأَدْفَعَ لِأَبِي بَكْرٍ شَيْئًا مِمَّا جِئْتُ بِهِ إِلَّا إِنْ سَأَلَنِيهِ ، فَإِنْ سَأَلَنِيهِ دَفَعْتُهُ إِلَيْهِ ، وَإِنْ لَمْ يَأْخُذْ أَمْسَكْتُهُ . فَقَالَ لَهُ عُمَرُ : إِنِّي لَمْ أَرَ لَكَ وَلِنَفْسِي إِلَّا خَيْرًا . ثُمَّ قَامَ عُمَرُ فَانْصَرَفَ ، فَلَمَّا وَلَّى عُمَرُ دَعَاهُ مُعَاذٌ ، فَقَالَ : إِنِّي مُطِيعُكَ ، وَلَوْلَا رُؤْيَا رَأَيْتُهَا لَمْ أُطِعْكَ ؛ إِنِّي أَرَانِي فِي نَوْمِي غَرِقْتُ فِي جَوْبَةٍ ، فَأَرَاكَ أَخَذْتَ بِيَدَيَّ ، فَأَنْجَيْتَنِي مِنْهَا ، فَانْطَلِقْ بِنَا إِلَى أَبِي بَكْرٍ ، فَانْطَلَقَا حَتَّى دَخَلَا عَلَيْهِ ، فَذَكَرَ لَهُ مُعَاذٌ كَنَحْوٍ مِمَّا كَلَّمَ بِهِ عُمَرَ فِيمَا كَانَ مِنْ غُرَمَائِهِ ، وَمَا أَرَادَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ جَبْرِهِ ، ثُمَّ أَعْلَمَهُ بِمَا جَاءَ بِهِ مِنَ الْمَالِ حَتَّى قَالَ : وَسَوْطِي هَذَا مِمَّا جِئْتُ بِهِ فَمَا رَأَيْتُ مَخْذُومًا رَأَيْتُ فَأَطِبْهُ ؟ فَقَالَ لَهُ أَبُو بَكْرٍ : هُوَ لَكَ كُلُّهُ يَا مُعَاذُ ، فَالْتَفَتَ عُمَرُ إِلَى مُعَاذٍ ، فَقَالَ : يَا مُعَاذُ ، هَذَا حِينَ طَابَ ، فَكَانَ مُعَاذٌ مِنْ أَكْثَرِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَالًا ، وَكَانَ مُعَاذٌ أَوَّلَ رَجُلٍ أَصَابَ مَالًا مِنْ مَرَافِقِ الْإِمَارَةِ . ¤ قَالَ ابْنُ شِهَابٍ : فَمَضَتِ السُّنَّةُ فِي مُعَاذٍ بِأَنْ خَلَّفَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مِنْ مَالِهِ ، وَلَمْ يَأْمُرْ بِبَيْعِهِ ، وَفِي رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَفِيهِ كَلَامٌ ، وَحَدِيثُهُ حَسَنٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ إِلَّا أَنَّ ابْنَ شِهَابٍ قَالَ : عَنِ ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِيهِ . وَلَمْ يُسَمِّهِ . وَفِي الصَّحِيحِ غَيْرُ حَدِيثٍ كَذَلِكَ ، وَلَا يُعْلَمُ فِي أَوْلَادِ كَعْبٍ ضَعِيفٌ ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ . ¤سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ ، جو ان تین افراد میں سے ایک ہیں ، جن کی ، توبہ اللہ تعالیٰ نے قبول کی تھی ، وہ بیان کرتے ہیں : سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں بہت سا قرض لے لیا ، یہاں تک کہ وہ قرض ان کے مال جتنا ہو گیا ، سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے نیک لوگوں میں سے ایک تھے ، سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! جب سے میں نے اسلام قبول کیا ہے ، میں نے یہ طے کیا ہے کہ میں مال کے حوالے سے بخل سے کام نہیں لوں گا ، جو مال میری ملکیت میں ہو گا ، تو میں نے اسلام کے مختلف امور کے بارے میں اپنا مال خرچ کیا ، اب میرے اوپر بہت سا قرض باقی رہ گیا ہے ، آپ میرے قرض خواہوں کو بلائیں اور ان سے نرمی کے لئے کہیں ، اگر انہوں نے مجھ سے نرمی کر لی تو ٹھیک ہے اور اگر وہ نہ مانیں ، تو آپ میرا مال انہیں دے دیجئے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے قرض خواہوں کو بلایا اور ان کے سامنے یہ پیشکش رکھی کہ وہ ان کے ساتھ نرمی کریں ان لوگوں نے عرض کی : ہم اپنے مال کے ساتھ محبت رکھتے ہیں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کا سارا مال ان کے حوالے کر دیا ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن کے کچھ حصے کی طرف بھیجا ، تاکہ وہ اپنی حاجت پوری کر لیں ، سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن سے ، حکومت کے عہدے کی وجہ سے بہت سا مال ملا ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا ، تو سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ یمن میں تھے ، یمن سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد مرتد ہو گئے ، سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے مقرر کردہ یمن کے مختلف امراء نے ان لوگوں کے ساتھ جنگ کی یہاں تک کہ وہ لوگ اسلام میں داخل ہو گئے ، پھر سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں بہت سا مال لے کر ( مدینہ منورہ ) آئے ، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے اور بولے : تم بہت سا مال لے کر آئے ہو ، میرا یہ خیال ہے کہ تم سیدنا ابوبکر کے پاس جاؤ اور ان سے یہ مال حاصل کر لو ، اگر انہوں نے اسے تمہارے لئے حلال قرار دے دیا ، تو یہ تمہارے لئے اچھی بات ہو گی ، ورنہ تم یہ ان کے حوالے کر دینا ، سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا: اے عمر آپ یہ بات جانتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے صرف اس لئے بھیجا تھا ، تاکہ آپ مجھے یہ موقع دیں کہ میں اپنی ضرورت پوری کر لوں ، یہ اس وقت کی بات ہے ، جب آپ نے میرا مال میرے قرض خواہوں کو دے دیا تھا ، اب میں جو کچھ لے کے آیا ہوں اس میں سے کوئی بھی چیز سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے حوالے نہیں کروں گا ، البتہ اگر انہوں نے مجھ سے پوچھ لیا ، تو معاملہ مختلف ہے ، اگر انہوں نے مجھ سے پوچھ لیا تو میں ان کے حوالے کر دوں گا اور اگر انہوں نے کچھ نہ لیا تو میں وہ اپنے پاس رکھوں گا ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا : میں نے تمہارے لئے اور اپنے لئے صرف بھلائی سوچی تھی پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اٹھ کے چلے گئے ، جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اٹھ کے چلے گئے تو سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے انہیں بلوایا اور کہا: میں آپ کی بات مان لیتا ہوں میں نے ایک خواب دیکھا تھا ، اگر وہ نہ دیکھا ہوتا ، تو میں نے آپ کی بات نہیں ماننی تھی میں نے خواب میں دیکھا کہ میں ایک بڑے گول گڑھے میں ڈوب رہا ہوں ، تو میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے اس سے نجات دلا دی ، آپ میرے ساتھ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس چلیں ، یہ دونوں حضرات گئے اور سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے ، سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ اس کی مانند گفتگو کی ، جو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان کے ساتھ کی تھی ، جو ان کے قرض خواہوں کے سلسلے میں تھی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ارادے کے بارے میں تھی ، پھر سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے انہیں بتایا کہ وہ یمن سے مال لے کے آئے ہیں ، یہاں تک کہ انہوں نے یہ بھی بتایا کہ یہ لاٹھی بھی اس چیز میں شامل ہے ، جو میں لے کے آیا ہوں ، تو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے معاذ ! وہ سارا مال تمہارا ہوا ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کی طرف مڑ کر دیکھا اور بولے : اے معاذ ! اب معاملہ ٹھیک ہو گیا ہے ، تو سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے زیادہ مال دار ہو گئے اور سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ وہ پہلے فرد ہیں ، جنہوں نے حکومتی عہدے کی وجہ سے مال حاصل کیا ۔ ابن شہاب بیان کرتے ہیں : تو سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ سنت جاری ہوئی کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے مال کو اپنے تصرف میں لیا ، آپ نے اسے فروخت کرنے کا حکم نہیں دیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے میں بہترین نمونہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ، اس کی نقل کردہ حدیث حسن ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف یہ ہے کہ ابن شہاب نے یہ بات بیان کی ہے : یہ سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ کے صاحبزادے کے حوالے سے ان کے والد سے منقول ہے ، انہوں نے ان صاحبزادے کا نام بیان نہیں کیا ” صحیح “ میں ، اس کے علاوہ اس کی طرح کی ایک روایت منقول ہے ، اور سیدنا کعب رضی اللہ عنہ کی اولاد میں سے کسی غریب راوی کا پتہ نہیں ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ۔