حدیث نمبر: 6654
وَعَنْ مَيْمُونٍ الْكُرْدِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " أَيُّمَا رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَةً عَلَى مَا قَلَّ مَنَ الْمَهْرِ ، أَوْ كَثُرَ لَيْسَ فِي نَفْسِهِ أَنْ يُؤَدِّيَ إِلَيْهَا حَقَّهَا خَدَعَهَا ، فَمَاتَ وَلَمْ يُؤَدِّ إِلَيْهَا حَقَّهَا لَقِيَ اللَّهَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ وَهُوَ زَانٍ . وَأَيُّمَا رَجُلٍ اسْتَدَانَ دَيْنًا لَا يُرِيدُ أَنْ يُؤَدِّيَ إِلَى صَاحِبِهِ حَقَّهُ أَخَذَ مَالَهُ ، فَمَاتَ وَلَمْ يُؤَدِّ إِلَيْهِ دَيْنَهُ لَقِيَ اللَّهَ وَهُوَ سَارِقٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَالصَّغِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

میمون کردی ، اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : وہ کہتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص کسی عورت کے ساتھ تھوڑے ، یا زیادہ مہر کے عوض میں شادی کرتا ہے اور اس کے ذہن میں یہ نہیں ہوتا کہ وہ اس عورت کو اس کا حق ادا کرے گا ، وہ اس عورت کے ساتھ دھوکہ کر رہا ہوتا ہے اگر وہ ایسی حالت میں مر جاتا ہے اور اس نے اس عورت کا حق ادا نہیں کیا ہوتا ، تو جب وہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو گا ، تو وہ زانی شمار ہو گا ، اور جو شخص قرض لیتا ہے اور اس کا یہ ارادہ نہیں ہوتا کہ وہ متعلقہ شخص کو اس کا حق ادا کرے گا ، وہ اس شخص کا مال لے لیتا ہے اور وہ مر جاتا ہے ، اور اس کا قرض اسے ادا نہیں کرتا ، تو جب وہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو گا ، تو وہ چور شمار ہو گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم صغیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6654
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (111) اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (1872)»