مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ نَوَى أَنْ لَا يَقْضِيَ دَيْنَهُ . باب: اس شخص کا بیان ، جو یہ نیت کرتا ہے ، کہ وہ اپنا قرض ادا نہیں کرے گا
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ تَزَوَّجَ امْرَأَةً عَلَى صَدَاقٍ ، وَهُوَ يَنْوِي أَنْ لَا يُؤَدِّيَهُ إِلَيْهَا فَهُوَ زَانٍ ، وَمَنِ ادَّانَ دَيْنًا ، وَهُوَ يَنْوِي أَنْ لَا يُؤَدِّيَهُ إِلَى صَاحِبِهِ - أَحْسَبُهُ قَالَ : - فَهُوَ سَارِقٌ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ مِنْ طَرِيقَيْنِ : إِحْدَاهُمَا هَذِهِ ، وَفِيهَا [ مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانٍ الْكُوفِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَالْأُخْرَى فِيهَا مَنْعُ الصَّدَاقِ خَالِيًا عَنِ الدَّيْنِ ، وَفِيهَا ] مُحَمَّدُ بْنُ الْحُصَيْنِ الْجَزَرِيُّ شَيْخُ الْبَزَّارِ ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهَا ثِقَاتٌ . ¤ وَيَأْتِي فِي النِّكَاحِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ . ¤سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص مہر کے عوض میں ، کسی عورت کے ساتھ شادی کرتا ہے اور وہ یہ نیت کرتا ہے کہ وہ اس عورت کو اس کا مہر ادا نہیں کرے گا ، تو وہ زنا کرنے والا شمار ہوتا ہے اور جو شخص قرض لیتا ہے اور وہ یہ نیت کرتا ہے کہ وہ متعلقہ فرد کو اسے ادا نہیں کرے گا ( راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے روایت میں یہ الفاظ ہیں : ) تو وہ شخص چور شمار ہوتا ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے دو حوالوں سے نقل کی ہے ، جن میں سے ایک یہ ہے اور اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ابان کوفی ہے اور وہ ضعیف ہے ، جبکہ دوسری روایت کی سند میں صرف مہر نہ دینے کا ذکر ہے ، اس میں قرض کا ذکر نہیں ہے ، اس کی سند میں ایک راوی محمد بن حصین جزری ہے ، جو امام بزار کا استاد ہے ، میں نے کسی کو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔
یہ روایت آگے چل کر نکاح سے متعلق باب میں آئے گی ، اگر اللہ نے چاہا ۔