حدیث نمبر: 6651
وَعَنْ خَوْلَةَ قَالَتْ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا قَدَّسَ اللَّهُ أُمَّةً لَا يَأْخُذُ ضَعِيفُهَا الْحَقَّ مِنْ قَوِيِّهَا غَيْرَ مُتَعْتَعٍ " . ثُمَّ قَالَ : " مَنِ انْصَرَفَ غَرِيمُهُ مِنْ حَقِّهِ هَذِهِ وَهُوَ رَاضٍ عَنْهُ صَلَّتْ عَلَيْهِ دَوَابُّ الْأَرْضِ ، وَنُونُ الْمَاءِ ، وَمَنِ انْصَرَفَ غَرِيمُهُ مِنْ كَذَا وَهُوَ سَاخِطٌ كُتِبَ عَلَيْهِ فِي كُلِّ يَوْمٍ ، وَلَيْلَةٍ وَجُمُعَةٍ ، وَشَهْرٍ ظُلْمٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ أَبُو سَعْدٍ الْبَقَّالُ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدہ خولہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ ایسی امت کو پاکیزگی عطا نہیں کرتا ، جس کا کمزور شخص ، طاقتور شخص سے حق کو کسی تردد ( یا مشکل ) کے بغیر نہیں لے سکتا ، پھر آپ نے ارشاد فرمایا : جس شخص کا قرض خواہ ، اپنے حق کے حوالے سے مقروض سے راضی ہو کر جائے ، تو اس ( مقروض ) کے لیے زمین کے جانور ، پانی کی مچھلیاں دعائے رحمت کرتے ہیں ، اور جس شخص کا قرض خواہ اُس سے ناراض ہو کر جائے تو اس ( مقروض ) کے خلاف ہر دن اور رات میں ، ہر جمعے ( یعنی ہفتے ) میں ، اور ہر مہینے میں زیادتی نوٹ کی جاتی ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابوسعد بقال ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6651
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (233/24)»