مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے بارے میں روایات
بَابُ مَطْلِ الْغَنِيِّ . باب: خوشحال شخص کا ( ادائیگی میں ) ٹال مٹول کرنا
حدیث نمبر: 6649
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - نَهَى عَنْ بَيْعَتَيْنِ فِي بَيْعَةٍ وَقَالَ : " مَطْلُ الْغَنِيِّ ظُلْمٌ ، وَإِذَا أُحِيلَ أَحَدُكُمْ عَلَى مَلِيءٍ فَلْيَحْتَلْ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ خَلَا الْحَسَنَ بْنَ عَرَفَةَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک ہی سودے میں ، دو سودے کرنے سے منع کیا ہے ، اور یہ ارشاد فرمایا ہے : ” خوشحال شخص کا ( ادائیگی میں ) ٹال مٹول کرنا ظلم ہے ، جب ایک شخص کو کسی دوسرے شخص کے حوالے کیا جائے گا ، تو اُسے دوسرے کے پیچھے چلے جانا چاہیے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف حسن بن عرفہ نامی راوی کا معاملہ مختلف ہے ، اور وہ ثقہ ہے ۔