مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ أَرَادَ أَنْ يَتَعَجَّلَ أَخْذَ دَيْنِهِ . باب: اس شخص کا بیان ، جو اپنا قرض جلدی لینا چاہے
عَنْ أَشْيَاءَ ، فَذَكَرَهَا مِنْهَا : أَنَّهُ نَهَى عَنْ بَيْعِ آجِلٍ بِعَاجِلٍ . قَالَ : وَالْآجِلُ بِالْعَاجِلِ أَنْ يَكُونَ لَكَ عَلَى الرَّجُلِ أَلْفُ دِرْهَمٍ فَيَقُولَ رَجُلٌ : أُعَجِّلُ لَكَ خَمْسَمِائَةٍ وَدَعِ الْبَقِيَّةَ . فَذَكَرَهُ . ¤ وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ الرَّبَذِيُّ ، وَهُوَ فِي الْبَزَّارِ . ¤سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے حوالے سے ایک حدیث پہلے گزر چکی ہے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ چیزوں سے منع کیا تھا ، انہوں نے اُس میں اس کا بھی ذکر کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تاخیر والی ادائیگی کے عوض میں جلدی ادائیگی کا سودا کرنے سے منع کیا ہے ، راوی نے یہ بات بیان کی ہے : تاخیر والی ادائیگی کے بدلے میں جلدی ادائیگی سے مراد یہ ہے کہ کسی شخص نے ایک ہزار درہم دینے ہوں اور پھر وہ شخص یہ کہے کہ میں آپ کو پانچ سو جلدی دے دیتا ہوں ، اور آپ باقی رقم چھوڑ دیں ، تو انہوں نے یہ بات ذکر کی ہے ۔ اس روایت کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ربذی ہے اور
یہ روایت ( یا یہ راوی ) بزار میں بھی ہے ۔