مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي الدَّيْنِ . باب: ادھار کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ سَعْدِ بْنِ الْأَطْوَلِ أَنَّ أَبَاهُ مَاتَ وَتَرَكَ ثَلَاثَمِائَةِ دِرْهَمٍ وَعِيَالًا وَدَيْنًا فَأَرَدْتُ أَنْ أُنْفِقَ عَلَى عِيَالِهِ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ أَبَاكَ مَحْبُوسٌ بِدَيْنِهِ فَاقْضِ عَنْهُ " . قُلْتُ : بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَدْ قَضَيْتُ مَا خَلَا امْرَأَةً ادَّعَتْ دِينَارَيْنِ ، وَلَيْسَ لَهَا بَيِّنَةٌ . قَالَ : " أَعْطِهَا ، فَإِنَّهَا صَادِقَةٌ " . فَأَعْطَيْتُهَا . ¤ قُلْتُ : رَوَى ابْنُ مَاجَهْ الْقِصَّةَ فِي أَخِيهِ وَهُنَا فِي أَبِيهِ . ¤سعد بن اطول بیان کرتے ہیں : اُن کے والد کا انتقال ہو گیا ، انہوں نے تین سو درہم اور عیال اور قرض پسماندگان میں چھوڑے ، میں نے یہ ارادہ کیا کہ میں ( وہ رقم ) اُن کے عیال پر خرچ کروں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تمہارے باپ کو اس کے قرض کی وجہ سے روک لیا گیا ہے تم اس کی طرف سے قرض کو ادا کر دو ! میں نے عرض کی : میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں یا رسول اللہ ! میں نے سارا قرض ادا کر دیا ہے ، البتہ ایک عورت کا معاملہ مختلف ہے ، جس نے دو دیناروں کا دعویٰ کیا ہے ، لیکن اس کے پاس کوئی ثبوت نہیں ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وہ اُسے ادا کر دو کیونکہ وہ سچ بول رہی ہے ، راوی کہتے ہیں : تو میں نے اس خاتون کو ادائیگی کر دی ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : امام ابن ماجہ نے یہ پورا واقعہ کیا ہے کہ وہ ان کے بھائی کے بارے میں ہے اور یہاں یہ ذکر ہوا ہے کہ یہ اُن کے والد کے بارے میں ہے ۔