حدیث نمبر: 6636
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ : صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَلَاةً ، ثُمَّ انْصَرَفَ ، فَقَالَ : " هَاهُنَا مِنْ بَنِي فُلَانٍ أَحَدٌ ؟ " . فَلَمْ يُجِبْهُ أَحَدٌ . فَقَالَ : " هَاهُنَا مِنْ بَنِي فُلَانٍ أَحَدٌ ؟ " ثُمَّ أَعَادَهَا الثَّالِثَةَ فَقَالَ رَجُلٌ : أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ : " فَمَا مَنَعَكَ أَنْ تَقُومَ ؟ " . قَالَ : فَرِقْتُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْ يَكُونَ حَدَثَ ! قَالَ : " لَا ، إِنَّ صَاحِبَكُمْ فُلَانًا قَدْ حُبِسَ بِبَابِ الْجَنَّةِ مِنْ أَجْلِ دَيْنِهِ " . قَالَ الرَّجُلُ : عَلَيَّ دَيْنُهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَغْرَاءَ ؛ وَثَّقَهُ أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ ، وَابْنُ حِبَّانَ ، وَضَعَّفَهُ آخَرُونَ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا کی اور نماز پڑھ کر فارغ ہوئے ، تو آپ نے ارشاد فرمایا : یہاں بنوفلاں سے تعلق رکھنے والا کوئی شخص موجود ہے ؟ کسی نے آپ کو جواب نہیں دیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : یہاں بنو فلاں سے تعلق رکھنے والا کوئی شخص موجود ہے ؟ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری مرتبہ اپنی بات کو دہرایا تو ایک شخص نے عرض کی : یا رسول اللہ میں ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم پہلے کیوں نہیں کھڑے ہوئے ؟ اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ کہیں کوئی نیا حکم نہ سامنے آ جائے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی نہیں ! تمہارا ساتھی فلاں شخص اسے اس کے ذمہ لازم قرض کی وجہ سے جنت کے دروازے پر روک لیا گیا ہے ، اُس شخص نے کہا: یا رسول اللہ ! اس کا قرض میرے ذمہ ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن مغراء ہے ، جسے ابوخالد احمر اور ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اور دیگر لوگوں نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6636
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (139)»