حدیث نمبر: 6615
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَيُّمَا رَجُلٍ أَتَاهُ ابْنُ عَمِّهِ فَسَأَلَهُ مِنْ فَضْلِهِ فَمَنَعَهُ مَنَعَهُ اللَّهُ فَضْلَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ . وَمَنْ مَنَعَ فَضْلَ الْمَاءِ لِيَمْنَعَ بِهِ فَضْلَ الْكَلَإِ مَنَعَهُ اللَّهُ فَضْلَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَالْأَوْسَطِ ، وَرَوَى أَحْمَدُ مِنْهُ : النَّهْيَ عَنْ فَضْلِ الْمَاءِ فَقَطْ . وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ ، وَفِي بَعْضِهِمْ كَلَامٌ لَا يَضُرُّ . وَفِي إِسْنَادِ الطَّبَرَانِيِّ مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ الْفِرْدَوْسِيُّ ؛ ضَعَّفَهُ الْأَزْدِيُّ بِهَذَا الْحَدِيثِ وَقَالَ : لَيْسَ بِمَحْفُوظٍ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جس شخص کے پاس اس کا چچا زاد آئے اور اس سے اضافی چیز مانگے اور وہ شخص اسے نہ دے تو اللہ تعالی قیامت کے دن اس سے اپنا فضل روک لے گا اور جو شخص اضافی پانی روک لیتا ہے تاکہ اس کے ذریعے اضافی گھاس کو روک دے تو قیامت کے دن اللہ تعالی اس سے اپنا فضل روک لے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے امام أحمد نے اس میں سے صرف اضافی پانی کی ممانعت والا حصہ نقل کیا ہے امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں ان میں سے بعض کے بارے میں ایسا کلام کیا گیا ہے ، جو نقصان دہ نہیں ہے امام طبرانی کی سند میں ایک راوی محمد بن حسن فردوسی ہے ، جسے ازدی نے اس حدیث کے حوالے سے ضعیف قرار دیا ہے اور فرمایا : یہ محفوظ نہیں ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6615
درجۂ حدیث محدثین: إسناده عارضی
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (93) اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (1217)»