❮
❯
حدیث نمبر: 6614
وَعَنْ سَمُرَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَقُولُ : " لَا يُقْطَعُ طَرِيقٌ ، وَلَا يُمْنَعُ فَضْلُ مَاءٍ ، وَلَا ابْنُ السَّبِيلِ عَارِيَةَ الدَّلْوِ ، وَالرِّشَاءِ ، وَالْحَوْضِ إِنْ لَمْ تَكُنْ لَهُ أَدَاةٌ تُعِينُهُ ، وَيُخَلَّى بَيْنَهُ وَبَيْنَ الرَّكِيَّةِ ، يَسْقِي ، وَلَا يُمْنَعِ الْحَفْرَ إِذَا تَرَكَ الْحَافِرُ خَمْسَةً وَعِشْرِينَ ذِرَاعًا عَطَنًا لِمَاشِيَتِهِ " .
رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِي إِسْنَادِهِ مَسَاتِيرُ .
محمد محی الدین

سیدنا سمرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” راستے کو نہیں کاٹا جائے گا ( یعنی ڈاکہ نہیں ڈالا جائے گا ) اور اضافی پانی سے نہیں روکا جائے گا اور مسافر کو عاریت کے طور پر ڈول رسی اور حوض سے نہیں روکا جائے گا اگر اس کے پاس ایسا سامان موجود نہ ہو جو اس کی مدد کرے ، اور اس کو کنویں کے پاس جانے دیا جائے گا ، تاکہ وہ پانی پی لے اور ( کنواں ) کھودنے سے نہیں روکا جائے گا ، جبکہ کھودنے والا اپنے جانوروں کے پانی پینے کے بعد بیٹھنے کے لئے پچیس ذراع جگہ چھوڑ دے“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کی سند میں مستور راوی ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6614
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7060) ، أخرجه الأموال لابن زنجويه برقم: 1095»