حدیث نمبر: 6589
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ فِي قَوْلِهِ عَزَّ وَجَلَّ : ( الَّذِينَ يَأْكُلُونَ الرِّبَا لَا يَقُومُونَ إِلَّا كَمَا يَقُومُ الَّذِي يَتَخَبَّطُهُ الشَّيْطَانُ مِنَ الْمَسِّ ) قَالَ : يُعْرَفُونَ بِذَلِكَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، إِلَّا كَمَا يَقُومُ الْمَجْنُونُ الْمُخَنَّقُ . ¤ ( ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ قَالُوا إِنَّمَا الْبَيْعُ مِثْلُ الرِّبَا ) وَكَذَبُوا عَلَى اللَّهِ ( وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا فَمَنْ جَاءَهُ مَوْعِظَةٌ مِنْ رَبِّهِ فَانْتَهَى ) إِلَى قَوْلِهِ : ( وَمَنْ عَادَ ) فَأَكَلَ الرِّبَا ( فَأُولَئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ ) . ¤ وَقَوْلِهِ : ( يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ فَإِنْ لَمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ ) إِلَى آخَرِ الْآيَةِ فَبَلَغَنَا - وَاللَّهُ أَعْلَمُ - أَنَّ هَذِهِ الْآيَةَ نَزَلَتْ فِي بَنِي عَمْرِو بْنِ عُمَيْرِ بْنِ عَوْفٍ مِنْ ثَقِيفٍ ، وَفِي بَنِي الْمُغِيرَةِ مِنْ مَخْزُومٍ ؛ كَانَتْ بَنُو الْمُغِيرَةِ يُرْبُونَ لِثَقِيفٍ فَلَمَّا أَظْهَرَ اللَّهُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى مَكَّةَ وَضَعَ يَوْمَئِذٍ الرِّبَا كُلَّهُ . وَكَانَ أَهْلُ الطَّائِفِ قَدْ صَالَحُوا عَلَى أَنَّ لَهُمْ رِبَاهُمْ وَمَا كَانَ عَلَيْهِمْ مِنْ رِبًا فَهُوَ مَوْضُوعٌ . وَكَتَبَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي آخِرِ صَحِيفَتِهِمْ : " أَنَّ لَهُمْ مَا لِلْمُسْلِمِينَ وَعَلَيْهِمْ مَا عَلَى الْمُسْلِمِينَ : أَنْ لَا يَأْكُلُوا الرِّبَا ، وَلَا يُؤَاكِّلُوهُ " . فَأَتَى بَنُو عَمْرِو بْنِ عُمَيْرٍ ، وَبَنُو الْمُغِيرَةِ إِلَى عَتَّابِ بْنِ أَسِيدٍ - وَهُوَ عَلَى مَكَّةَ - فَقَالَ بَنُو الْمُغِيرَةِ : مَا جَعَلَنَا أَشْقَى النَّاسِ بِالرِّبَا ؟ وَضَعَ عَنِ النَّاسِ غَيْرَنَا . فَقَالَ بَنُو عَمْرِو بْنِ عُمَيْرٍ : صُولِحْنَا عَلَى أَنَّ لَنَا رِبَانَا . فَكَتَبَ عَتَّابُ بْنُ أَسِيدٍ فِي ذَلِكَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ : ( فَإِنْ لَمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ ) فَعَرَفَ بَنُو عَمْرٍو أَنَّ الْإِيذَانَ لَهُمْ بِحَرْبٍ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ بِقَوْلِهِ : ( إِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوسُ أَمْوَالِكُمْ لَا تَظْلِمُونَ ) فَتَأْخُذُونَ أَكْثَرَ ( وَلَا تُظْلَمُونَ ) فَتُبْخَسُونَ مِنْهُ ( وَإِنْ كَانَ ذُو عُسْرَةٍ ) أَنْ تَذَرُوهُ خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ ( فَنَظِرَةٌ إِلَى مَيْسَرَةٍ وَأَنْ تَصَدَّقُوا خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ وَاتَّقُوا يَوْمًا تُرْجَعُونَ فِيهِ إِلَى اللَّهِ ثُمَّ تُوَفَّى كُلُّ نَفْسٍ مَا كَسَبَتْ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ ) فَذَكَرُوا أَنَّ هَذِهِ الْآيَةَ نَزَلَتْ ، وَآخِرَ سُورَةِ النِّسَاءِ نَزَلَتَا آخِرَ الْقُرْآنِ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ السَّائِبِ الْكَلْبِيُّ ، وَهُوَ كَذَّابٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالی کے اس فرمان کے بارے میں بیان کرتے ہیں : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” وہ لوگ جو سود کھاتے ہیں ، وہ یوں کھڑے ہوں گے ، جیسے وہ شخص کھڑا ہوتا ہے ، جسے شیطان نے چھو کر مخبوط الحواس کر دیا ہو “ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : قیامت کے دن وہ لوگ اس صورت کے حال کے حوالے سے پہچانے جائیں گے کہ وہ صرف وہ یوں کھڑے ہوں گے ، جس طرح مجنوں شخص کھڑا ہوتا ہے ، جس کی گردن مسلی گئی ہو ۔ ( ارشاد باری تعالی ہے : ) ” اس کی وجہ یہ ہے کہ ان لوگوں نے یہ کہا: کہ بیع بھی سود کی مانند ہے “ حالانکہ ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی طرف جھوٹی بات منسوب کی ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے بیع کو حلال قرار دیا ہے ، اور سود کو حرام قرار دیا ہے ، تو جس شخص کے پاس اس کے پروردگار کی طرف سے نصیحت آ جائے ، اور وہ باز آ جائے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ یہ آیت یہاں تک ہے : ” اور جو شخص دوبارہ ایسا کرے “ یعنی سود کھائے ” تو یہی لوگ جہنمی ہیں اور وہ لوگ اس میں ہمیشہ رہیں گے “ ۔ ارشاد باری تعالی ہے : ” اے ایمان والو ! اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور سود میں سے جو باقی رہ گیا ہے ، اسے ترک کر دو ، اگر تم ایمان رکھنے والے ہو اور اگر تم ایسا نہیں کرتے ، تو اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ جنگ کے لئے تیار ہو جاؤ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ “ یہ آیت کے آخر تک ہے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : ہم تک یہ اطلاع پہنچی ہے ، باقی اللہ بہتر جانتا ہے ، کہ یہ آیت بنو عمرو بن عمیر بن عوف کے بارے میں نازل ہوئی تھی ، جن کا تعلق ثقیف قبیلے سے تھا اور بنومغیرہ کے بارے میں نازل ہوئی تھی ، بنومغیرہ کے لوگ ثقیف قبیلے کے لوگوں کو سود دیا کرتے تھے ، جب اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کو مکہ پر غلبہ عطا کر دیا ، تو اس دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہر قسم کے سود کو کالعدم قرار دے دیا ، طائف کے رہنے والے لوگوں نے اس بات پر صلح کی کہ اُن کے سود انہیں ملیں گے اور جس سود کی ادائیگی ان کی ذمہ ہے ، وہ کالعدم قرار پائے گا نبی اکرم ملا ہم نے ان کے صحیفے کے آخر میں یہ بات لکھوادی کہ انہیں ہر وہ حق حاصل ہوگا جو مسلمانوں کو ملتا ہے اور ان پر ہر وہ چیز لاگو ہو گی جو مسلمانوں پر لاگو ہوتی ہے ، یہ کہ وہ لوگ سود نہیں کھائیں گے اور اسے نہیں کھلائیں گے بنو عمرو بن عمیر اور بنو مغیرہ سیدنا عتاب بن اسید رضی اللہ عنہ کے پاس آئے جو مکہ کے گورنر تھے ، بنو مغیرہ نے کہا: سود کے حوالے سے ہم سب سے زیادہ بد نصیب لوگ ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمارے علاوہ دوسروں کا سود معاف کر دیا ہے ، بنو عمرو بن عمیر نے کہا: ہمارے ساتھ تو اس بات پر مصالحت ہوئی تھی کہ ہمیں ہمارا سود ملے گا ، سیدنا عتاب بن اسید صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو خط لکھا ، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی : ” اگر تم ایسا نہیں کرتے ہو ، تو اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ جنگ کے لئے تیار ہو جاؤ“ ۔ تو بنوعمرو کو اس بات کا پتہ چل گیا کہ اس طرح تو وہ لوگ اللہ اور اس کے رسول کے ساتھ جنگ کرنے والوں کے مترادف ہو جائیں گے ، اس کی وجہ اللہ تعالیٰ کا یہ فرمان ہے : اگر تم توبہ کر لیتے ہو ، تو تمہیں تمہارے اصل مال تمہیں مل جائیں گے اور تم ظلم نہ کرو “ ۔ یعنی تم زیادہ وصولی نہ کرو ” اور تم پر ظلم نہ کیا جائے “ کہ تمہیں اصل رقم بھی نہ ملے ۔ ” اور اگر وہ شخص تنگدست ہو “ اور اگر تم اسے چھوڑ دیتے ہو ،  تو یہ تمہارے لئے یہ زیادہ بہتر ہو گا ، اگر تم علم رکھتے ہو ۔ ” تو پھر مہلت دی جائے گی ، سہولت میسر ہونے تک کی ، اور اگر تم صدقہ کر دو ، تو یہ تمہارے لئے زیادہ بہتر ہے اگر تم علم رکھتے ہو ، اور تم اس دن سے ڈرو کہ جس دن میں تمہیں اللہ تعالیٰ کی طرف واپس لوٹا دیا جائے گا اور پھر ہر شخص کو اس کا پورا اجر دیا جائے گا جو اس نے کمایا تھا اور ان لوگوں کے ساتھ کوئی ظلم نہیں ہو گا “ ۔ لوگوں نے یہ بات ذکر کی ہے کہ یہ آیت نازل ہوئی تھی اور سورۂ نساء کے ساتھ یہ آخری آیت ، یہ دونوں قرآن میں سب سے آخر میں نازل ہوئی ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن سائب کلبی ہے اور وہ کذاب ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6589
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً یا موضوع