حدیث نمبر: 658
وَعَنْ أَبِي خَلْدَةَ قَالَ : سَمِعْتُ مَيْمُونًا الْكُرْدِيَّ وَهُوَ عِنْدَ مَالِكِ بْنِ دِينَارٍ ، فَقَالَ لَهُ مَالِكُ بْنُ دِينَارٍ : مَا لِلشَّيْخِ لَا يُحَدِّثُ عَنْ أَبِيهِ ، فَإِنَّ أَبَاكَ قَدْ أَدْرَكَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَسَمِعَ مِنْهُ ؟ فَقَالَ : كَانَ أَبِي لَا يُحَدِّثُنَا عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَخَافَةَ أَنْ يَزِيدَ أَوْ يَنْقُصَ ، وَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ - إِنْ شَاءَ اللَّهُ - . ¤
محمد محی الدین

ابوخلدہ بیان کرتے ہیں : میں نے میمون کردی کو سنا : وہ اُس وقت مالک بن دینار کے پاس موجود تھے ، مالک بن دینار نے اُن سے کہا: کیا وجہ ہے کہ بزرگوار ( یعنی آپ ) اپنے والد کے حوالے سے حدیث روایت نہیں کرتے ہیں ؟ حالانکہ آپ کے والد نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ پایا ہے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سماع کیا ہے ، تو میمون نے بتایا : میرے والد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے ہمیں کوئی حدیث بیان نہیں کرتے تھے ، اس اندیشے کے تحت کہ کہیں وہ کوئی کمی یا بیشی نہ کر دیں ، انہوں نے یہ بات بیان کی ہے : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص جان بوجھ کر میری طرف کوئی جھوٹی بات منسوب کرتا ہے ، اُسے جہنم میں اپنے ٹھکانے تک پہنچنے کے لیے تیار رہنا چاہیے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہو گی ، اگر اللہ نے چاہا ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب العلم / حدیث: 658
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجم الاوسط 6213»