مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے بارے میں روایات
بَابُ بَيْعِ الدُّورِ ، وَالْأَرَاضِي ، وَالنَّخِيلِ . باب: گھروں ، زمین اور کھجور کے درخت کو فروخت کرنا
حدیث نمبر: 6543
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَعْلَى اللَّيْثِيِّ قَاضِي الْبَصْرَةِ أَنَّ مَعْقِلَ بْنَ يَسَارٍ بَاعَ دَارًا بِمِائَةِ أَلْفٍ ، فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " أَيُّمَا رَجُلٍ بَاعَ عُقْرَةً مِنْ غَيْرِ حَاجَةٍ بَعَثَ اللَّهُ تَالِفًا يُتْلِفُهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ ، مِنْهُمْ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَعْلَى اللَّيْثِيُّ . ¤محمد محی الدین
عبداللہ بن یعلی لیثی ، جو بصرہ کے قاضی ہیں ، وہ بیان کرتے ہیں : سیدنا معقل بن یسار رضی اللہ عنہ نے ایک گھر ایک لاکھ کے عوض میں فروخت کیا ، پھر انہوں نے یہ بات بتائی : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص کسی ضرورت کے بغیر زمین ( یا گھر ) فروخت کرتا ہے ، تو اللہ تعالٰی ایک ضائع کرنے والا بھیجتا ہے ، جو اس کے مال کو ضائع کر دیتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں راویوں کی ایک جماعت ایسی ہے جن سے میں واقف نہیں ہوں جن میں عبداللہ بن یعلی لیثی بھی ہے ۔