مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے بارے میں روایات
بَابُ كَرَاهِيَةِ شِرَاءِ الصَّدَقَةِ لِمَنْ تَصَدَّقَ بِهَا . باب: جس شخص نے کوئی چیز صدقہ کی ہو
وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ قَالَ : أُعْطِيتُ نَاقَةً فِي سَبِيلِ اللَّهِ ، فَأَرَدْتُ أَنْ أَشْتَرِيَ مِنْ نَسْلِهَا ، أَوْ مِنْ ضِئْضِئِهَا فَسَأَلْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " دَعْهَا تَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ هِيَ وَأَوْلَادُهَا جَمِيعًا فِي مِيزَانِكَ " . ¤ قُلْتُ : لَهُ حَدِيثٌ فِي الصَّحِيحِ فِي شِرَائِهِ لَا شِرَاءِ شَيْءٍ مِنْ نَسْلِهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ؛ وَثَّقَهُ ابْنُ مَعِينٍ ، وَغَيْرُهُ ، وَضَعَّفَهُ الْبُخَارِيُّ . ¤سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : مجھے اللہ کی راہ میں ایک اونٹنی دی گئی میں نے اس اونٹنی کی نسل میں سے ایک جانور خریدنے کا اردہ کیا ( یہاں ایک لفظ مختلف ہے لیکن مفہوم یہی ہے ) میں نے اس بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا ، تو آپ نے ارشاد فرمایا : اسے رہنے دو قیامت کے دن یہ اور اس کی ساری اولاد تمہارے میزان میں آئیں گی “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ان کے حوالے سے ” صحیح “ میں ایک حدیث منقول ہے ، جو صدقے والے جانور کو خریدنے کے بارے میں ہے اس کی نسل میں سے کسی چیز کو خریدنے کے بارے میں نہیں ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی مؤمل بن اسماعیل ہے ، جسے یحیی بن معین اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے اور امام بخاری رحمہ اللہ نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔