مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب العلم— علم کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ كَذَبَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . باب: اس شخص کا بیان جو نبی اکرم ﷺ کی طرف جھوٹی بات منسوب کرے
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ بَيْنَ عَيْنَيْ جَهَنَّمَ " فَشَقَّ ذَلِكَ عَلَى أَصْحَابِهِ ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، نُحَدِّثُ بِالْحَدِيثِ نَزِيدُ وَنَنْقُصُ ! . قَالَ : " لَيْسَ أَعْنِيكُمْ ، إِنَّمَا أَعْنِي الَّذِي يَكْذِبُ عَلَيَّ مُتَحَدِّثًا يَطْلُبُ بِهِ شِينَ الْإِسْلَامِ " ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّكَ قُلْتَ بَيْنَ عَيْنَيْ جَهَنَّمَ ، وَهَلْ لِجَهَنَّمَ عَيْنَانِ ؟ قَالَ : " نَعَمْ ، أَمَّا سَمِعْتُمُ اللَّهَ - تَعَالَى - يَقُولُ " إِذَا رَأَتْهُمْ مِنْ مَكَانٍ بَعِيدٍ " فَهَلْ تَرَاهُمْ إِلَّا بِعَيْنَيْنِ ؟ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ الْأَحْوَصُ بْنُ حَكِيمٍ ، ضَعَّفَهُ النَّسَائِيُّ وَغَيْرُهُ ، وَوَثَّقَهُ الْعِجْلِيُّ وَيَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ الْقَطَّانُ فِي رِوَايَةٍ ، وَرَوَاهُ عَنِ الْأَحْوَصِ مُحَمَّدُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ عَطِيَّةَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص جان بوجھ کر میری طرف کوئی جھوٹی بات منسوب کرتا ہے ، اُسے جہنم کی دونوں آنکھوں کے درمیان اپنا ٹھکانہ بنا لینا چاہیے “ یہ بات آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب پر بہت گراں گزری ، اُنہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کوئی حدیث بیان کرتے ہوئے ہم سے کمی و بیشی ہو جاتی ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میری مراد تم لوگ نہیں ہو ، میری مراد وہ شخص ہے ، جو میری طرف کوئی جھوٹی بات منسوب کرتا ہے اور اس بات کو بیان کرنے کے ذریعے وہ اسلام کو رسوا کرنا چاہتا ہے ، لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : جہنم کی دونوں آنکھوں کے درمیان ، تو کیا جہنم کی دو آنکھیں بھی ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی ہاں ! کیا تم نے اللہ تعالیٰ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے نہیں سنا ہے : ” جب وہ دور سے انہیں دیکھے گی“ ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ) تو وہ انہیں آنکھوں کے ذریعے ہی دیکھ سکتی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی احوص بن حکیم ہے ، اسے امام نسائی رحمہ اللہ اور دیگر نے ضعیف قرار دیا ہے ، عجلی نے اور ایک روایت کے مطابق یحیی بن سعید القطان نے اُسے ثقہ قرار دیا ہے ، احوص کے حضرات حوالے سے یہ روایت محمد بن فضل بن عطیہ نے نقل کی ہے ، جو ایک ضعیف راوی ہے ۔