مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے بارے میں روایات
بَابُ بَيْعِ الْمُصَرَّاةِ وَصَبْرِ الْبَهَائِمِ . باب: تصریہ والے جانور کو فروخت کرنا اور جانور کو باندھ کر مارنا
حدیث نمبر: 6528
وَعَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا تُرْسِلُوا الْإِبِلَ هَمَلًا صَرُّوهَا صَرًّا ، فَإِنَّ الشَّيْطَانَ يَرْضَعُهَا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عُمَرُ بْنُ مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤ قُلْتُ : قَدْ مَرَّ فِي بَابِ مَا نُهِيَ عَنْهُ مِنَ الْبُيُوعِ مَا يَتَضَمَّنُ النَّهْيَ عَنْ بَيْعِ الْمُصَرَّاةِ . ¤محمد محی الدین
سیدنا سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اونٹوں کو چرواہے کے بغیر کھلا نہ چھوڑو ! ان کے تھن باندھ کے رکھو ، کیونکہ شیطان ان کا دودھ پی لیتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عمر بن موسیٰ انصاری ہے اور وہ متروک ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : جن سودوں سے منع کیا گیا ہے ان سے متعلق باب میں یہ روایت گزر چکی ہے ، جو تصریہ والے جانور کو فروخت کرنے کی ممانعت والا مضمون رکھتی ہے ۔