مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے بارے میں روایات
بَابُ بَيْعِ الْمُصَرَّاةِ وَصَبْرِ الْبَهَائِمِ . باب: تصریہ والے جانور کو فروخت کرنا اور جانور کو باندھ کر مارنا
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " وَلَا تُصَرُّوا الْإِبِلَ وَالْغَنَمَ لِلْبَيْعِ ، فَمَنِ اشْتَرَى شَاةً مُصَرَّاةً ، فَإِنَّهُ بِأَحَدِ النَّظَرَيْنِ : إِنْ رَدَّهَا رَدَّهَا بِصَاعٍ مِنْ تَمْرٍ " . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ ، وَابْنُ مَاجَهْ إِلَّا أَنَّهُمَا قَالَا : " رَدَّ مِثْلَيْ أَوْ مِثْلَ لَبَنِهَا قَمْحًا " بَدَلَ التَّمْرِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ لَيْثُ بْنُ أَبِي سُلَيْمٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” فروخت کرنے کے لئے اونٹنیوں اور بکریوں کا تصریہ نہ کرو ! جو شخص تصریہ والی بکری خرید لے ، تو اسے دو میں سے ایک چیز کا اختیار ہو گا ( یعنی اگر وہ چاہے ، تو سودا ختم کر سکتا ہے ) اگر وہ اس کو واپس کرتا ہے ، تو کھجور کے ایک صاع کے ساتھ واپس کرے گا “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابوداؤد اور امام ابن ماجہ نے بھی نقل کی ہے تا ہم ان دونوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” وہ اس کے دودھ جتنی یا اس کی دگنا گندم واپس کرے گا “ یہاں کھجور کی جگہ لفظ گندم منتقل کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے اور وہ ثقہ ہے لیکن وہ تدلیس کرنے والا ہے اور اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔