مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ بَاعَ عَبْدًا وَلَهُ مَالٌ ، أَوْ نَخْلًا مُؤَبَّرَةً . باب: اس شخص کا بیان ، جو کوئی غلام فروخت کرتا ہے اور اس غلام کا مال بھی موجود ہوتا ہے یا وہ کھجور کا درخت فروخت کرتا ہے ، جس کے ( پھل کی ) پیوندکاری ہو چکی ہوتی ہے
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ بَاعَ عَبْدًا وَلَهُ مَالٌ فَلَهُ مَالُهُ وَعَلَيْهِ دَيْنُهُ إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ . وَمَنْ أَبَّرَ نَخْلًا ، وَبَاعَهُ بَعْدَ تَوْبِيرِهِ فَلَهُ ثَمَرَتُهُ إِلَّا أَنْ يَشْتَرِطَ الْمُبْتَاعُ " . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ بِاخْتِصَارٍ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى الدِّمَشْقِيُّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اور سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص کوئی غلام فروخت کرے اور اس غلام کے پاس مال موجود ہو ، تو وہ مال اس فروخت کرنے والے کو ملے گا اگر غلام کے ذمہ قرض ہو ، تو اس کی ادائیگی بھی اس شخص کے ذمہ ہو گی البتہ اگر خریدار نے شرط عائد کی ہو ، تو حکم مختلف ہے اور جس شخص نے کھجور کے درخت کی پیوند کاری کر لی ہو اور اس کی پیوند کاری کرنے کے بعد وہ کھجور کا درخت فروخت کرے ، تو اس کا پھل اس فروخت کرنے والے کو ملے گا البتہ اگر خریدار نے شرط عائد کی ہو ، تو حکم مختلف ہو گا “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح “ میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول حدیث اختصار کے ساتھ منقول ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن موسیٰ دمشقی ہے وہ ثقہ ہے اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔