حدیث نمبر: 6496
وَعَنْ جَابِرٍ - فِيمَا يَظُنُّ أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ - قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ الرُّطَبِ بِالتَّمْرِ ، وَالْعِنَبِ بِالزَّبِيبِ ، وَرَخَّصَ فِي الْعَرَايَا . وَالْعَرَايَا يَجِيءُ الْأَعْرَابِيُّ إِلَى ابْنِ عَمٍّ لَهُ أَوْ رَجُلٍ مِنْ أَهْلِ بَيْتِهِ فَيَأْمُرُ لَهُ بِالنَّخْلَةِ وَالنَّخْلَتَيْنِ ، وَلَمْ يَبْلُغْ ، وَهُوَ يُرِيدُ الْخُرُوجَ فَلَا بَأْسَ أَنْ يَبِيعَهَا بِالتَّمْرِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ ، عَنِ ابْنِ عَطَاءٍ ، عَنْ أَبِيهِ . وَابْنُ عَطَاءٍ إِنْ كَانَ يَعْقُوبَ بْنَ عَطَاءٍ فَهُوَ ضَعِيفٌ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَإِنْ كَانَ غَيْرَهُ لَمْ أَعْرِفْهُ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ابوبکر بن عیاش کے گمان کے مطابق انہوں نے یہ بات بیان کی ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خشک کھجوروں کے عوض میں تر کھجوروں کو منقی کے عوض میں کشمش کو فروخت کرنے سے منع کیا ہے البتہ آپ نے عرایا کے بارے میں رخصت دی ہے عرایا سے مراد یہ ہے کہ دیہاتی اپنے چچا زاد کے پاس یا کسی اور خاندان کے فرد کے پاس آتا ہے اور اسے ایک کھجور کا درخت یا دو درخت دے دیتا ہے ، جو ابھی پک کر تیار نہیں ہوتے پھر وہ نکلنا چاہتا ہے ، تو اس میں کوئی حرج نہیں ہے کہ وہ کھجوروں کے عوض میں ( اس درخت کو ) فروخت کر دے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں ابوبکر بن عیاش کے حوالے سے ابن عطاء کے حوالے سے ان کے والد سے نقل کی ہے ابن عطاء سے مراد اگر تو یعقوب بن عطاء ہے ، تو پھر وہ ضعیف ہے ویسے ابن حبان نے اسے ثقہ قرار دیا ہے اور اگر اس کے علاوہ کوئی اور مراد ہے ، تو پھر میں اس سے واقف نہیں ہوں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6496
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (1748)»