مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الْعَرَايَا . باب: عرایا کا بیان
حدیث نمبر: 6495
وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - رَخَّصَ فِي الْعَرَايَا بِالْوَسْقِ وَالْوَسْقَيْنِ ، وَالثَّلَاثَةِ ، وَالْأَرْبَعَةِ ، وَقَالَ : " فِي كُلِّ جَادٍّ عَشَرَةُ أَوْسُقٍ وَمَا بَقِيَ عِذْقًا يُوضَعُ فِي الْمَسْجِدِ لِلْمَسَاكِينِ " .
قَالَ مُحَمَّدٌ : وَهُمُ الْيَوْمَ يَشْتَرِطُونَ ذَلِكَ عَلَى التُّجَّارِ .
رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ ابْنُ إِسْحَاقَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ .
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عرایا کے بارے میں یہ رخصت دی ہے کہ ایک وسق یا دو وسق یا تین یا چار وسق تک ہو گا آپ نے فرمایا ہے : دس وسق کی ہر پیداوار میں سے ایک گچھا مسجد میں غریبوں کے لئے رکھ دیا جائے گا ۔ محمد نامی راوی کہتے ہیں : آج کل لوگ تاجروں پر اس کی شرط عائد کر دیتے ہیں ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے وہ ثقہ ہے لیکن وہ تدلیس کرنے والا ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔