مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے بارے میں روایات
بَابُ بَيْعِ الْمَغَانِمِ قَبْلَ الْقِسْمَةِ . باب: تقسیم سے پہلے مال غنیمت کو فروخت کرنا
وَعَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ أَنْ عَلِيًّا ، وَابْنَ مَسْعُودٍ كَانَا يُجِيزَانِ بَيْعَ الصَّدَقَةِ ، وَلَمْ يُقْبَضْ ، وَكَانَ مُعَاذُ بْنُ جَبَلٍ ، وَشُرَيْحٌ لَا يُجِيزَانِهَا حَتَّى تُقْبَضَ ، وَقَوْلُ مُعَاذٍ ، وَشُرَيْحٍ أَحَبُّ إِلَى سُفْيَانَ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ . وَالْقَاسِمُ لَمْ يُدْرِكْ مُعَاذًا . وَفِيهِ جَابِرٌ الْجُعْفِيُّ ، وَثَّقَهُ شُعْبَةُ ، وَغَيْرُهُ ، وَضَعَّفَهُ جُمْهُورُ الْأَئِمَّةِ . ¤قاسم بن عبدالرحمن بیان کرتے ہیں : سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ صدقہ فروخت کرنے کو جائز قرار دیتے تھے اگرچہ اسے قبضے میں نہ لیا گیا ہو جبکہ سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ اور قاضی شریح اسے جائز قرار نہیں دیتے تھے جب تک وہ قبضے میں نہیں لے لیا جاتا اور سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ اور قاضی شریح کا قول سفیان کے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے قاسم نامی راوی نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے اس روایت کی سند میں ایک راوی جابر جعفی ہے ، جسے شعبہ اور دیگر حضرات نے ثقہ قرار دیا ہے اور جمہور ائمہ نے اسے ضعیف کہا: ہے ۔