مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے بارے میں روایات
بَابُ بَيْعِ الْمَغَانِمِ قَبْلَ الْقِسْمَةِ . باب: تقسیم سے پہلے مال غنیمت کو فروخت کرنا
وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ حَيَّانَ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : خَطَبَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ خَيْبَرَ فَنَهَاهُمْ أَنْ يُبَاعَ سَهْمٌ مِنْ مَغْنَمٍ حَتَّى يُقَسَّمَ ، وَأَنْ تُوطَأَ الْحَبَالَى حَتَّى يَضَعْنَ ، وَعَنِ الثَّمَرَةِ أَنْ تُبَاعَ حَتَّى يَبْدُوَ صَلَاحُهَا وَيُؤْمَنَ عَلَيْهَا الْعَاهَةُ . ¤ زَادَ دُحَيْمٌ فِي حَدِيثِهِ : وَأَحَلَّ لَهُمْ ثَلَاثَةَ أَشْيَاءَ كَانَ نَهَاهُمْ عَنْهَا : أَحَلَّ لَهُمْ لُحُومَ الْأَضَاحِيِّ وَزِيَارَةَ الْقُبُورِ وَالْأَوْعِيَةِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ . وَعِمْرَانُ لَمْ يَرْوِهِ عَنْهُ غَيْرُ حُمَيْدٍ . ¤عمران بن حیان انصاری ، اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : غزوہ خیبر کے موقع پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خطبہ دیتے ہوئے لوگوں کو اس بات سے منع کیا کہ تقسیم سے پہلے مال غنیمت میں سے کسی حصے کو فروخت کیا جائے یا حاملہ عورتوں کے ساتھ صحبت کی جائے جب تک وہ بچے کو جنم نہیں دیتیں یا پھل کو اس کی صلاحیت ظاہر ہونے سے پہلے فروخت کیا جائے جبکہ وہ آفت سے محفوظ ہو چکا ہو ۔ دحیم نامی راوی نے اپنی روایت میں یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کے لئے تین چیزوں کو حلال قرار دیا جن چیزوں سے آپ نے پہلے انہیں منع کیا تھا آپ نے ان کے لئے قربانی کے گوشت ، قبروں کی زیارت کرنے اور مختلف قسم کے برتنوں کو حلال قرار دیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے عمران نامی راوی کے حوالے سے حمید کے علاوہ اور کسی نے اسے نقل نہیں کیا ہے ۔