مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے بارے میں روایات
بَابُ كَسْبِ الْحَجَّامِ ، وَغَيْرِهِ . باب: پچھنے لگانے والے اور دیگر لوگوں کی کمائی کا حکم
وَعَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي سُلَيْمٍ قَالَ : سَمِعْتُ عَبَايَةَ بْنَ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ يُحَدِّثُ أَنَّ جَدَّهُ حِينَ مَاتَ تَرَكَ جَارِيَةً ، وَنَاضِحًا ، وَغُلَامًا حَجَّامًا ، وَأَرْضًا ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي الْجَارِيَةِ ، فَنَهَى عَنْ كَسْبِهَا - قَالَ شُعْبَةُ : مَخَافَةَ أَنْ تَبْتَغِيَ - وَقَالَ : " مَا أَصَابَ الْحَجَّامُ فَأَعْلِفُوهُ النَّاضِحَ " . وَقَالَ فِي الْأَرْضِ : " ازْرَعْهَا ، أَوْ ذَرْهَا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَأَبُو يَعْلَى وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤یحیی بن ابوسلیم بیان کرتے ہیں : میں نے عبایہ بن رفاعہ بن رافع کو یہ بات بیان کرتے ہوئے سنا کہ جب ان کے دادا کا انتقال ہوا تو انہوں نے ایک کنیز ایک اونٹنی اور ایک پچھنے لگانے والا غلام اور ایک زمین چھوڑی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کینز کے بارے میں یہ فرمایا کہ آپ نے اس کی کمائی سے منع کر دیا شعبہ کہتے ہیں : اس اندیشے کے تحت کہ کہیں وہ فاحشہ نہ بن جائے اور آپ نے یہ فرمایا پچھنے لگانے والا جو کمائی کرے گا وہ تم اونٹ کو کھلا دینا زمین کے بارے میں آپ نے یہ فرمایا کہ تم خود اس پر کھیتی باڑی کرو یا اسے ایسے رہنے دو ( یعنی اسے ٹھیکے پر نہ دینا ) ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔