مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے بارے میں روایات
بَابُ كَسْبِ الْحَجَّامِ ، وَغَيْرِهِ . باب: پچھنے لگانے والے اور دیگر لوگوں کی کمائی کا حکم
وَعَنْ رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ يُقَالُ لَهُ : مُحَيِّصَةُ كَانَ لَهُ غُلَامٌ حَجَّامٌ فَزَجَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنْ كَسْبِهِ قَالَ : أَفَلَا أُطْعِمُهُ أَيْتَامًا لِي ؟ قَالَ : " لَا " قَالَ : أَفَلَا أَتَصَدَّقُ بِهِ ؟ قَالَ : " لَا " فَرَخَّصَ لَهُ أَنْ يَعْلِفَ بِهِ نَاضِحَهُ . ¤ قُلْتُ : هُوَ فِي السُّنَنِ الثَّلَاثَةِ بِاخْتِصَارٍ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤انصار سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب جن کا نام محیصہ ہے ان کے بارے میں یہ بات منقول ہے ان کا ایک غلام تھا جو پچھنے لگایا کرتا تھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان صاحب کو اس کی کمائی سے منع کر دیا ان صاحب نے عرض کی : کیا میں وہ کمائی اپنے زیر پرورش یتیم بچوں کو نہ کھلا دیا کروں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی نہیں ! انہوں نے عرض کی : کیا میں اس کو صدقہ نہ کر دوں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی نہیں ! پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں یہ رخصت دی کہ وہ اس کے ذریعے اپنے اونٹ کو چارہ کھلا دیا کریں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں
یہ روایت تینوں ” سنن “ میں اختصار کے ساتھ منقول ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے امام أحمد کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔