حدیث نمبر: 6414
وَعَنْ أُمِّ سُلَيْمٍ قَالَتْ : لَمَّا نَزَلَ تَحْرِيمُ الْخَمْرِ أَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - هَاتِفًا يَهْتِفُ : " أَلَا إِنَّ الْخَمْرَ قَدْ حُرِّمَتْ فَلَا تَبِيعُوهَا ، وَلَا تَبْتَاعُوهَا ، وَمَنْ كَانَ عِنْدَهُ مِنْهَا شَيْءٌ فَلْيُهْرِقْهُ " . ¤ قَالَ أَبُو طَلْحَةَ : يَا غُلَامُ ، احْلُلْ عَنِ الْمَزَادَةِ فَأَهْرِقْهَا ، فَأَهْرَقَ النَّاسُ وَمَا لَهُمْ خَمْرٌ يَوْمَئِذٍ إِلَّا الْبُسْرُ وَالتَّمْرُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْوَلِيدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُوَقَّرِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں جب شراب کی حرمت کا حکم نازل ہوا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منادی کو یہ حکم دیا کہ وہ یہ اعلان کرے خبردار ! شراب کو حرام قرار دے دیا گیا ہے ، تو اب تم اسے فروخت نہ کرو اور اسے نہ خریدو ، اور جس کے پاس اس کا کچھ بھی ہو وہ اس کو بہا دے “ ۔ ( سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہ بیان کرتی ہیں ) سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے لڑکے ! مشکیزے کا منہ کھول دو اور اسے بہا دو ، تو لوگوں نے شراب کو بہا دیا حالانکہ ان دنوں ان کی شراب صرف ( کھجور کی دو قسموں ) بسر اور تمر سے بنائی جاتی تھی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ولید بن محمد موقری ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6414
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف