حدیث نمبر: 6404
وَعَنْ جَابِرٍ قَالَ : كَانَ رَجُلٌ يَحْمِلُ الْخَمْرَ مِنْ خَيْبَرَ إِلَى الْمَدِينَةِ فَيَبِيعُهَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ ، فَحَمَلَ مِنْهَا بِمَالٍ ، فَقَدِمَ بِهِ الْمَدِينَةَ ، فَلَقِيَهُ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمِينَ ، فَقَالَ : يَا فُلَانُ ، إِنَّ الْخَمْرَ قَدْ حُرِّمَتْ . فَوَضَعَهَا حَيْثُ انْتَهَى عَلَى تَلٍّ وَسَجَّى عَلَيْهَا بِالْأَكْسِيَةِ ، ثُمَّ أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، بَلَغَنِي أَنَّ الْخَمْرَ قَدْ حُرِّمَتْ ؟ قَالَ : " أَجَلْ " قَالَ : أَلِيَ أَنْ أَرُدَّهَا عَلَى مَنِ ابْتَعْتُهَا مِنْهُ ؟ قَالَ : " لَا يَصْلُحُ رَدُّهَا " . قَالَ : أَلِيَ أَنْ أُهْدِيَهَا إِلَى مَنْ يُكَافِئُنِي مِنْهَا ؟ قَالَ : " لَا " قَالَ : إِنَّ فِيهَا مَالًا لِيَتَامَى فِي حِجْرِي ، قَالَ : " إِذَا أَتَانَا مَالُ الْبَحْرَيْنِ فَأْتِنَا نُعَوِّضْ أَيْتَامَكَ مِنْ مَالِهِمْ " . ثُمَّ نَادَى : " يَا أَهْلَ الْمَدِينَةِ " ، قَالَ : فَقَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، الْأَوْعِيَةُ نَنْتَفِعُ بِهَا ؟ قَالَ : " فَحَلُّوا أَوْكِيَتَهَا " . فَانْصَبَّتْ حَتَّى اسْتَقَرَّتْ فِي بَطْنِ الْوَادِي " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِي الطَّبَرَانِيِّ الْأَوْسَطِ طَرَفٌ مِنْهُ بِمَعْنَاهُ ، وَفِي إِسْنَادِ الْجَمِيعِ يَعْقُوبُ الْقُمِّيُّ ، وَعِيسَى بْنُ جَارِيَةَ ، وَفِيهِمَا كَلَامٌ ، وَقَدْ وُثِّقَا . ¤
محمد محی الدین

سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک شخص خیبر سے مدینہ منورہ شراب لاد کر لایا کرتا تھا اسے مسلمانوں کو فروخت کیا کرتا تھا اس کے عوض میں مال حاصل کرتا تھا ایک مرتبہ وہ شراب لے کے مدینہ منورہ آیا مسلمانوں میں سے ایک شخص کی اس سے ملاقات ہوئی تو اس نے کہا: اے فلاں ! شراب کو تو حرام قرار دے دیا گیا ہے ، تو وہ شخص جہاں موجود تھا اس نے وہاں ایک ٹیلے کے اوپر شراب رکھی اس پر چادر ڈال دی پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے عرض کی : یا رسول اللہ مجھے یہ بات پتہ چلا ہے کہ شراب کو حرام قرار دے دیا گیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ! اس نے عرض کی : کیا مجھے اس بات کا حق حاصل ہے کہ میں نے جس سے اسے خریدا ہے اسے میں واپس کر دوں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اسے واپس کرنا ٹھیک نہیں ہے اس نے عرض کی : کیا مجھے اس بات کا حق حاصل ہے کہ میں کسی ایسے شخص کو اسے تحفے کے طور پر دے دوں جو اس کے بدلے میں مجھے کچھ دیدے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی نہیں ! اس نے عرض کی : اس میں کچھ یتیموں کا مال بھی ہے ، جو میرے زیر پرورش ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جب بحرین کا مال ہمارے پاس آئے گا تو تم ہمارے پاس آ جانا تمہارے زیر پرورش یتیم بچوں کے مال کا معاوضہ ہم تمہیں دے دیں گے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان کروایا اے اہل مدینہ راوی کہتے ہیں : ایک صاحب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ برتن بھی ہیں جن سے ہم نفع حاصل کرتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تم ان کی بندش کھول دو یہاں تک کہ شراب بہہ جائے اور شیبی حصے میں چلی جائے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں اس روایت کے ایک حصے کا مفہوم نقل کیا ہے اور ان تمام کی سند میں ایک راوی یعقوب قمی اور ایک عیسیٰ بن جاریہ ہے اور ان دونوں کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ویسے ان دونوں کی توثیق کی گئی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6404
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه ابو يعلي فى المسند (1884 و2074)»