مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب العلم— علم کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ كَذَبَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . باب: اس شخص کا بیان جو نبی اکرم ﷺ کی طرف جھوٹی بات منسوب کرے
وَعَنْ أَبِي مَرْيَمَ قَالَ : سَمِعْتُ عَمَّارَ بْنَ يَاسِرٍ يَقُولُ لِأَبِي مُوسَى : أَنْشُدُكَ اللَّهَ أَلَمْ تَسْمَعْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ كَذَبَ عَلَيَّ مُتَعَمِّدًا فَلْيَتَبَوَّأْ مَقْعَدَهُ مِنَ النَّارِ " ؟ فَسَكَتَ أَبُو مُوسَى ، وَلَمْ يَقُلْ شَيْئًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَلِيُّ بْنُ الْحَزَوَّرِ ، ضَعَّفَهُ الْبُخَارِيُّ وَغَيْرُهُ ، وَيُقَالُ لَهُ : عَلِيُّ بْنُ أَبِي فَاطِمَةَ . ¤ابومریم بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا عمار بن یاسر رضی اللہ عنہ کو سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے یہ کہتے ہوئے سنا : میں آپ کو اللہ کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں : کیا آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے نہیں سنا ہے : ” جو شخص جان بوجھ کر میری طرف کوئی جھوٹی بات منسوب کرے ، اُسے جہنم میں اپنے مخصوص ٹھکانے تک پہنچنے کے لیے تیار رہنا چاہیے ۔ “ راوی بیان کرتے ہیں : تو سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ خاموش رہے اور انہوں نے کچھ نہیں کہا: ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی علی بن حزوّر ہے ، جسے امام بخاری رحمہ اللہ اور دیگر حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے ، اسے علی بن ابوفاطمہ بھی کہا: جاتا ہے ۔