حدیث نمبر: 6367
وَعَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا يُتَلَقَّى الْجَلَبُ ، وَلَا يَبِعْ حَاضِرٌ لِبَادٍ . وَمَنِ اشْتَرَى شَاةً مُصَرَّاةً أَوْ نَاقَةً - قَالَ شُعْبَةُ : إِنَّمَا قَالَ : نَاقَةً مَرَّةً وَاحِدَةً - فَهُوَ مِنْهَا بِآخِرِ النَّظَرَيْنِ إِذَا هُوَ حَلَبَ إِنْ رَدَّهَا رَدَّ مَعَهَا صَاعًا مِنْ طَعَامٍ " . قَالَ الْحَكَمُ : أَوْ قَالَ : " صَاعًا مِنْ تَمْرٍ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ایک صحابی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” سوداگروں سے ( منڈی سے باہر ) نہیں ملا جائے گا اور شہری شخص دیہاتی کے لئے کوئی چیز فروخت نہیں کرے گا اور جو شخص کوئی تصریہ والی بکری یا اونٹنی خرید لیتا ہے ۔ ( شعبہ نامی راوی نے یہاں پر ایک مرتبہ صرف اونٹنی کا ذکر کیا ہے ، آگے روایت میں یہ الفاظ ہیں : ) تو وہ اس جانور کے حوالے سے دو میں سے ایک چیز کا حق رکھے گا جبکہ اس نے اس کا دودھ دوہ لیا ہو ( یا تو وہ اس کو رکھ لے ) اور اگر وہ چاہے ، تو اسے واپس کر دے اور اس کے ساتھ اناج کا ایک صاع واپس کر دے “ ۔ یہاں پر حکم نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : شاید انہوں نے یہ نقل کیا کہ کھجور کا ایک صاع واپس کر دے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6367
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (314/4)»