حدیث نمبر: 6364
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَا يَبِعْ حَاضِرٌ لِبَادٍ ، وَلَا تَسْتَقْبِلُوا الْجَلَبَ ، وَلَا تَنَاجَشُوا ، وَلَا يَخْطُبْ أَحَدُكُمْ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ ، وَلَا تَسْأَلِ الْمَرْأَةُ طَلَاقَ أُخْتِهَا لِتَكْتَفِئَ مَا فِي صُحْفَتِهَا ، فَإِنَّمَا لَهَا مَا كُتِبَ ، وَلَا تُصَرُّوا الْإِبِلَ ، وَالْغَنَمَ لِلْبَيْعِ فَمَنِ اشْتَرَى شَاةً مُصَرَّاةً ، فَإِنَّهُ بِأَحَدِ النَّظَرَيْنِ إِنْ رَدَّهَا رَدَّهَا بِصَاعٍ مِنْ تَمْرٍ " . ¤ قُلْتُ : لِابْنِ عُمَرَ فِي الصَّحِيحِ : النَّهْيُ عَنِ النَّجْشِ ، وَالتَّلَقِّي . وَلَهُ عِنْدَ أَبِي دَاوُدَ ، وَابْنِ مَاجَهْ حَدِيثٌ فِي الْمُصَرَّاةِ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ فِيهِ : " رَدَّ مِثْلِي أَوْ مِثْلَ لَبَنِهَا قَمْحًا " بَدَلَ التَّمْرِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ لَيْثُ ابْنُ أَبِي سُلَيْمٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَلَكِنَّهُ مُدَلِّسٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” شہری شخص دیہاتی کی چیز فروخت نہیں کروائے گا تم ( منڈی تک پہنچنے سے پہلے ) سوداگروں سے نہ ملو اور تم مصنوعی بولی: نہ لگاؤ اور تم میں سے کوئی ایک شخص اپنے بھائی کے شادی کے پیغام پر اپنی شادی کا پیغام نہ بھیجے اور کوئی عورت اپنی بہن کی طلاق کا مطالبہ نہ کرے تاکہ اس کے پیالے میں موجود چیز کو خود حاصل کر لے اس عورت کو وہ چیز ملے گی جو اس کے نصیب میں ہو گی اور تم اونٹنیوں یا بکریوں کا انہیں فروخت کرنے کے لئے تصریہ نہ کرو جو شخص کوئی تصریہ والی بکری خریدتا ہے ، تو اسے دو میں سے ایک بات کا اختیار ہو گا ( یا تو وہ اس کو رکھ لے یا پھر ) اگر وہ چاہئے ، تو اسے واپس کر دے اور اس کے ہمراہ کھجور کا ایک صاع واپس کرے “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے منقول حدیث ” صحیح “ میں مذکور ہے ، جو بولی: لگانے اور ( منڈی سے باہر سوداگروں سے ) ملنے کی ممانعت کے بارے میں ان کے حوالے سے امام ابوداؤد اور امام ابن ماجہ نے ایک حدیث نقل کی ہے ، جو تصریہ والے جانور کے بارے میں ہے تاہم انہوں نے اس میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” وہ اس کے دودھ کی دو مثل ، ( راوی کو شک ہے یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) ایک مثل ، جتنی گندم واپس کرے گا “ یعنی ۔ انہوں نے کھجور کی جگہ گندم کا لفظ استعمال کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی لیث بن ابوسلیم ہے اور وہ ثقہ ہے لیکن وہ تدلیس کرنے والا ہے اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6364
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (13545)»