مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے بارے میں روایات
بَابُ مَا نُهِيَ عَنْهُ مِنَ الْبُيُوعِ . باب: کون سی قسم کے سودوں سے منع کیا گیا ہے
عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : نَهَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَنِ الشِّغَارِ ، وَعَنْ بَيْعِ الْمَجَرِ ، وَعَنْ بَيْعِ الْغَرَرِ ، وَعَنْ بَيْعِ كَالِئٍ بِكَالِئٍ ، وَعَنْ بَيْعِ آجِلٍ بِعَاجِلٍ . ¤ قَالَ : وَالْمَجَرُ مَا فِي الْأَرْحَامِ . ¤ وَالْغَرَرُ : أَنْ تَبِيعَ مَا لَيْسَ عِنْدَكَ . ¤ وَكَالِئٌ بِكَالِئٍ : دَيْنٌ بِدَيْنٍ . ¤ وَالْآجِلُ بِعَاجِلٍ : أَنْ يَكُونَ لَكَ عَلَى الرَّجُلِ أَلْفُ دِرْهَمٍ فَيَقُولَ الرَّجُلُ : أُعَجِّلُ لَكَ خَمْسَمِائَةٍ وَدَعِ الْبَقِيَّةَ . ¤ وَالشِّغَارُ : أَنْ يُنْكِحَ الْمَرْأَةَ بِالْمَرْأَةِ لَيْسَ بَيْنَهُمَا صَدَاقٌ . ¤ قُلْتُ : فِي الصَّحِيحِ طَرَفٌ مِنْهُ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے شغار سے ، مجر فروخت کرنے سے ، دھوکے کے سودے سے ، کالی کے عوض میں کالی کے سودے سے ، اور ادھار کے بدلے میں نقد سودے سے منع کیا ہے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : مجر سے مراد وہ چیز ہے ، جو ( جانور کے ) پیٹ میں موجود ہو ۔ دھوکے کے سودے سے مراد یہ ہے کہ آپ ایسی چیز فروخت کر دیں جو آپ کے پاس ہے ہی نہیں ۔ کالی کے عوض میں کالی سے مراد یہ ہے کہ ادھار کے بدلے میں ادھار کا سودا کیا جائے ۔ تاخیر کے بدلے میں جلدی کا سودا یہ ہے کہ آپ نے کسی شخص سے ایک ہزار درہم لینے ہیں اور وہ شخص یہ کہے کہ میں آپ کو پانچ سو درہم جلدی ادا کر دیتا ہوں آپ باقی رقم چھوڑ دیں ۔ شغار یہ ہے کہ عورت کے عوض میں عورت کے ساتھ نکاح کر لیا جائے اور ان دونوں کا کوئی مہر نہ ہو ۔ علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ” صحیح “ میں اس روایت کا ایک حصہ منقول ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔