مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الْغَبْنِ فِي الْبَيْعِ . باب: سودے میں دھوکہ ہو جانا
حدیث نمبر: 6322
وَعَنِ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيٍّ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " الْمَغْبُونُ لَا مَحْمُودٌ ، وَلَا مَأْجُورٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مُحَمَّدُ بْنُ هِشَامٍ ، وَالظَّاهِرُ أَنَّهُ مُحَمَّدُ بْنُ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ وَلَيْسَ فِي الْمِيزَانِ أَحَدٌ يُقَالُ لَهُ مُحَمَّدُ بْنُ هِشَامٍ ضَعِيفٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” دھوکہ دیا جانا نہ تو قابل تعریف ہے اور نہ ہی اجر کا باعث ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی محمد بن ہشام ہے بظاہر یہ لگتا ہے کہ یہ محمد بن ہشام بن عروہ ہے ۔ ” میزان “ میں ایسے کسی شخص کا ذکر نہیں ہے ، جس کا نام محمد بن ہشام ہو اور وہ ضعیف ہو اس روایت کے بقیہ حال ثقہ ہیں ۔