حدیث نمبر: 6312
وَعَنْ رَجُلٍ مِنْ بَلْعَدَوِيَّةَ قَالَ : حَدَّثَنِي جَدِّي قَالَ : انْطَلَقْتُ إِلَى الْمَدِينَةِ فَنَزَلْتُ عِنْدَ الْوَادِي فَإِذَا رَجُلَانِ بَيْنَهُمَا عَنْرٌ وَاحِدَةٌ ، وَإِذَا الْمُشْتَرِي يَقُولُ لِلْبَائِعِ : أَحْسِنْ مُبَايَعَتِي . قَالَ : فَقُلْتُ فِي نَفْسِي : هَذَا الْهَاشِمِيُّ الَّذِي أَضَلَّ النَّاسَ أَهُوَ هُوَ ؟ قَالَ : فَنَظَرْتُ فَإِذَا رَجُلٌ حَسَنُ الْجِسْمِ عَظِيمُ الْجَبْهَةِ دَقِيقُ الْأَنْفِ دَقِيقُ الْحَاجِبَيْنِ ، وَإِذَا مِنْ ثَغْرَةِ نَحْرِهِ إِلَى سُرَّتِهِ مِثْلُ الْخَيْطِ الْأَسْوَدِ شَعْرٌ أَسْوَدُ ، وَإِذَا هُوَ بَيْنَ طِمْرَيْنِ قَالَ : فَدَنَا مِنَّا فَقَالَ : " السَّلَامُ عَلَيْكُمْ " . فَرَدَدْنَا عَلَيْهِ السَّلَامَ ، فَلَمْ أَلْبَثْ أَنْ دَعَا الْمُشْتَرِيَ ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قُلْ لَهُ يُحْسِنُ مُبَايَعَتِي . فَمَدَّ يَدَهُ وَقَالَ : " أَمْوَالَكُمْ تَمْلِكُونَ . إِنِّي لَأَرْجُو أَنْ أَلْقَى اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لَا يَطْلُبُنِي أَحَدٌ مِنْكُمْ بِشَيْءِ ظَلَمْتُهُ فِي مَالٍ ، وَلَا دَمٍ ، وَلَا عِرْضٍ إِلَّا بِحَقِّهِ . رَحِمَ اللَّهُ امْرَأً سَهْلَ الْبَيْعِ سَهْلَ الشِّرَاءِ سَهْلَ الْأَخْذِ سَهْلَ الْعَطَاءِ سَهْلَ الْقَضَاءِ سَهْلَ التَّقَاضِي " . ¤ ثُمَّ مَضَى فَذَكَرَ الْحَدِيثَ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ رَاوٍ لَمْ يُسَمَّ . ¤
محمد محی الدین

” بلعد دیہ “ سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب بیان کرتے ہیں : میرے دادا نے مجھے یہ بات بیان کی ہے : میں مدینہ منورہ گیا میں وادی کے پاس اترا وہاں دو آدمی موجود تھے جن کے درمیان ایک بکری تھی ، خریدار ، فروخت کرنے والے سے یہ کہہ رہا تھا : تم میرے ساتھ اچھے طریقے سے سودا کرو راوی کہتے ہیں : میں نے دل میں سوچا وہ ہاشمی شخص جس نے لوگوں کو گمراہ کیا ہوا ہے کیا وہ یہی ہے ؟ راوی کہتے ہیں : اسی دوران میں نے دیکھا اس کا جسم خوبصورت تھا پیشانی چوڑی تھی ناک باریک تھی ابرو پتلے تھے ان کی گردن کے نیچے سے لے کے ناف تک سیاہ بالوں کی لکیر تھی ۔ انہوں نے دو چادریں اوڑھی ہوئی تھیں وہ ہمارے قریب آئے اور بولے : السلام علیکم ہم نے انہیں سلام کا جواب دیا تھوڑی دیر بعد جب انہوں نے خریدار کو بلایا تو اس نے عرض کی : یا رسول اللہ آپ اس سے کہیں کہ یہ میرے ساتھ اچھی طرح سے سودا کرے تو انہوں نے اپنا ہاتھ بڑھایا اور فرمایا : تمہارے اموال کے تم مالک ہو مجھے یہ امید ہے کہ جب میں قیامت کے دن اللہ تعالی کی بارگاہ میں حاضر ہوؤں گا تو تم میں سے کسی ایک نے مجھ سے کسی ایسی چیز کا مطالبہ نہیں کرنا ہو گا جو میں نے اس پر مال یا جان یا عزت کے حوالے سے ظلم کیا ہو گا البتہ اس کے حق کا معاملہ مخلف ہے اللہ تعالی اس شخص پر رحم کرے جو فروخت کرنے میں نرم ہو خریدنے میں نرم ہو اور لینے میں نرم ہو ادائیگی میں نرم ہو تقاضا کرنے میں نرم ہو “ ۔ اس کے بعد راوی نے پوری حدیث نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6312
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف