مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے بارے میں روایات
بَابُ اتِّخَاذِ الشَّجَرِ ، وَغَيْرِ ذَلِكَ . باب: درخت لگانا اور دیگر امور کا بیان
وَعَنْ فَنَّجَ قَالَ : كُنْتُ أَعْمَلُ فِي الدَّيْنَبَاذِ وَأُعَالِجُ فِيهِ ، فَقَدِمَ يَعْلَى بْنُ أُمَيَّةَ أَمِيرًا عَلَى الْيَمَنِ ، وَجَاءَ مَعَهُ رِجَالٌ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَجَاءَنِي رَجُلٌ مِمَّنْ قَدِمَ مَعَهُ ، وَأَنَا فِي الزَّرْعِ أَصْرِفُ الْمَاءَ فِي الزَّرْعِ ، وَمَعَهُ فِي كُمِّهِ جَوْزٌ ، فَجَلَسَ عَلَى سَاقِيَةٍ مِنَ الْمَاءِ ، وَهُوَ يَكْسِرُ مِنْ ذَلِكَ الْجَوْزِ ، وَيَأْكُلُ ، ثُمَّ أَشَارَ إِلَى فَنَّجَ ، فَقَالَ : يَا فَارِسِيُّ هَلُمَّ قَالَ : فَدَنَوْتُ مِنْهُ . قَالَ الرَّجُلُ لِفَنَّجَ : أَتَضْمَنُ غَرْسَ هَذَا الْجَوْزِ عَلَى هَذَا الْمَاءِ ؟ فَقَالَ لَهُ فَنَّجُ : مَا يَنْفَعُنِي ذَلِكَ ؟ فَقَالَ الرَّجُلُ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ بِأُذُنَيَّ هَاتَيْنِ : " مَنْ نَصَبَ شَجَرَةً فَصَبَرَ عَلَى حِفْظِهَا وَالْقِيَامِ عَلَيْهَا حَتَّى تُثْمِرَ كَانَ لَهُ فِي كُلِّ شَيْءٍ يُصَابُ مِنْ ثَمَرَتِهَا صَدَقَةٌ عِنْدَ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - " . ¤ فَقَالَ لَهُ فَنَّجُ : أَنْتَ سَمِعْتَ هَذَا مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ قَالَ : [ نَعَمْ ، قَالَ ] فَنَّجُ : فَأَنَا أَضْمَنُهَا فَقَالَ : فَمِنْهَا جَوْزُ الدَّيْنَبَاذِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ فَنَّجُ ؛ ذَكَرَهُ ابْنُ أَبِي حَاتِمٍ ، وَلَمْ يُوَثِّقْهُ ، وَلَمْ يَجْرَحْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤فنج نامی صاحب بیان کرتے ہیں : میں ( یمن کے ایک شہر ) ” دینباذ “ میں کام کرتا تھا اور دیکھ بھال کیا کرتا تھا سیدنا یعلی بن امیہ رضی اللہ عنہ یمن کے گورنر بن کر تشریف لائے ان کے ساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب سے تعلق رکھنے والے کچھ افراد بھی تھے جو لوگ ان کے ساتھ آئے تھے ان میں سے ایک صاحب میرے پاس آئے میں اس وقت کھیت میں موجود تھا اور کھیت کو پانی دے رہا تھا ان صاحب کے پاس ان کی جیب میں بادام تھے ، وہ پانی کی نالی کے پاس بیٹھ گئے ، وہ ان باداموں کو توڑتے جا رہے تھے اور کھا رہے تھے پھر انہوں نے فنج کو اشارہ کیا اور کہا: اے فارسی ادھر آؤ راوی کہتے ہیں : میں ان کے پاس گیا ان صاحب نے فنج سے کہا: کیا تم اس بات کے ضامن بنتے ہو کہ اس پانی پر بادام کے درخت لگاؤ فنج نے ان سے دریافت کیا : مجھے اس کا کیا فائدہ ہو گا ؟ ان صاحب نے بتایا کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اپنے ان دو کانوں کے ذریعے یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص درخت لگاتا ہے اور پھر اس کی حفاظت میں صبر سے کام لیتا ہے اور پھر اس کی دیکھ بھال کرتا ہے یہاں تک کہ وہ درخت پھل دینے لگتا ہے ، تو اس کے پھل میں سے جو بھی چیز کوئی حاصل کرتا ہے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اس شخص کو اتنا صدقے کا ثواب نصیب ہوتا ہے “ ۔ فنج نے ان سے دریافت کیا : کیا آپ نے خود نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی یہ بات سنی ہے ؟ انہوں نے کہا: جی ہاں ! فنج نے کہا: میں اس کا ضامن ہوں راوی کہتے ہیں : تو دینباز کے باداموں کا آغاز وہاں سے ہوا تھا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی فنج ہے ، جس کا ذکر ابن حاتم نے کیا ہے ۔ انہوں نے اس کی توثیق بھی نہیں کی اور اس پر جرح بھی نہیں کی اور اس کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔