حدیث نمبر: 6267
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ أَنَّ رَجُلًا مَرَّ بِهِ ، وَهُوَ يَغْرِسُ غَرْسًا بِدِمَشْقَ فَقَالَ لَهُ : أَتَفْعَلُ هَذَا ، وَأَنْتَ صَاحِبُ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ؟ قَالَ : لَا تَعْجَلْ عَلَيَّ ؛ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ غَرَسَ غَرْسًا لَمْ يَأْكُلْ مِنْهُ آدَمِيٌّ ، وَلَا خَلْقٌ مِنْ خَلْقِ اللَّهِ إِلَّا كَانَ لَهُ بِهِ صَدَقَةٌ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ ، وَفِيهِمْ كَلَامٌ لَا يَضُرُّ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے ایک شخص ان کے پاس سے گزرا وہ اس وقت دمشق میں پودے لگا رہے تھے اس شخص نے کہا: آپ ایسا کر رہے ہیں ؟ جبکہ آپ اللہ کے رسول کے صحابی ہیں ۔ انہوں نے فرمایا : تم میرے بارے میں جلد بازی سے کام نہ لو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص پودا ( یا درخت ) لگاتا ہے ، تو اس میں سے جو بھی آدمی یا اللہ کی مخلوق میں سے جو بھی مخلوق کچھ کھاتی ہے ، تو یہ چیز اس شخص کے حق میں صدقہ شمار ہوتی ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے اس کے راویوں کے بارے میں ایسا کلام کیا گیا ہے ، جو نقصان دہ نہیں ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البيوع / حدیث: 6267
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (444/6)»